اداکارہ عریشہ رضی خان کے ہاں ننھے مہمان کی آمد متوقع، بےبی شاور کی تصاویر وائرل
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ عریشہ رضی خان جلد ہی اپنے پہلے بچے کا خیر مقدم کرنے والی ہیں۔
عریشہ رضی نے فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر شوہر کے ہمراہ اپنی ’بے بی شاور‘ کی تقریب سے خوبصورت تصاویر شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو بتایا کہ وہ جلد ماں بننے والی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’میرا پیٹ میری مرضی‘، اداکارہ مریم نفیس کا ناقدین کو کرارا جواب
اداکارہ نے انسٹاگرام پر شیئر کی گئی پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ ’ہم بے تابی سے اس دن کا انتظار کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے مزید لکھا کہ انہوں نے محبت، ہنسی اور بہت ہی خاص لمحات سے بھرپور بے بی شاور کا تجربہ کیا، اداکارہ نے ان تمام لوگوں کا دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس دن کو خاص اور یادگار بنایا۔
View this post on Instagram
A post shared by ARISHA RAZI KHAN (@arisharazikhan.
اداکارہ کی اس پوسٹ پر شوبز شخصیات اور مداحوں کی جانب سے مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری ہے۔
واضح رہے کہ عریشہ رضی نے سال 2022 میں عبدالصمد ضیا نامی لڑکے کے ساتھ نکاح کیا تھا لیکن اُن کے نکاح کی تقریب کے فوٹوگرافر نے اُن کی اجازت کے بغیر تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کردی تھیں جس کے بعد تنازع کھڑا ہوگیا تھا۔
عریشہ رضی خان کی گزشتہ سال کے آغاز میں شوہر، عبداللّٰہ فرخ کے ساتھ رخصتی ہوئی تھی۔ شادی کی تقریبات میں ڈھولکی، برائیڈل شاور، دُعائے خیر، مایوں اور گیم نائٹ شامل تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’اگر آپ کو مسئلہ ہے تو مجھے ان فالو کر دیں‘ مریم نفیس کا ناقدین کو جواب
عریشہ رضی نے اپنی شادی کی تقریب میں بولی ووڈ کے مشہور گانے ’چھمک چھلو‘ پر رقص بھی کیا، جس کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی تاہم کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اداکارہ کو اپنی شادی پر رقص کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
اداکارہ کئی مشہور ڈرامہ سیریلز میں نظر آ چکی ہیں جن میں ’دکھاوا‘، ’دل پہ زخم کھائے‘، ’چوراہا‘ ’چاند کی پریاں‘، ’مکافات‘ اور ’تمہارے عشق کے نام‘ شامل ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری عریشہ رضی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری
پڑھیں:
نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
اسپیشل اولمپکس پاکستان کے تحت نیشنل اسپیشل گیمز 2026کے دوسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی میں فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد میڈلز تقسیم اور اختتامی تقریب کاانعقاد ہوا۔
اسپیشل اولمپکس پاکستان کی روح رواں رونق لاکھانی نے استقبالی کلمات ادا کیے، ان کا کہنا تھاکہ گیمز میں ملک بھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے والے خصوصی کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ثابت کیا کہ وہ کسی سے کم نہیں۔
رونق لاکھانی نے گیمز کو کامیاب بنانے میں اسپانسرز اور ڈونرز بشمول میکڈونلڈ، پاکستان او ایم آئی اور فیصل بینک کا خصوصی شکریہ ادا کیا،انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو بھرپور اعتماد دینا چاہیے تاکہ وہ معاشرے کا مضبوط انگ بن سکیں۔
مہمان خصوصی راحل اعجاز کا کہنا تھا کہ سماجی ذمہ داری کے تحت ہم مثبت سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں، اسپیشل اولمپکس پاکستان کی خصوصی کھلاڑیوں کے لیے کاوشیں قابل قدر ہیں۔
فٹبال ٹورنامنٹ کے لیے خصوصی طور پر کینیڈا سے آنے والی فیفا فٹبال کوچ کرن غوری نے کہا کہ ایونٹ میں شریک بوائز اور گرلز کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دل جیت لیے اور ثابت کیا کہ ان کی صلاحیتیں کسی سے ہرگز کم نہیں، جیسمین نے خصوصی کھلاڑیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے بہترین سہولیات کی فراہمی پر اسپیشل اولمپکس پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
فٹبال چیمپئن شپ کے بوائز ایونٹ کی ایک کیٹگری میں فیڈرل ایریاز نے پہلی خیبر پختونخواہ نے دوسری اور سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی،بی کیٹگری میں گلگت بلتستان فاتح رہا اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ بلوچستان نے دوسری پوزیشن کے ساتھ سلور اور سندھ نے سوئم رہ کر برانز میڈل حاصل کیا۔
قبل ازیں گیمز میں شریک ٹیموں نے مارچ پاسٹ کیا اور سلامی دی،آخر میں کامیاب ٹیموں اور ان کے کھلاڑیوں میں میڈلز تقسیم کیے گئے،اگلے گیمز پنجاب میں ہوں گے، گیمز کا مقصد ذہنی معذوری والے کھلاڑیوں کو صلاحیتوں اور کھیل میں مہارت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، گیمز کے ذریعہ چلی کے شہر چسینٹیاگو میں ہونے والے ورلڈ سمر اسپیشل گیمز تیاریوں کا اہم حصہ ہے۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے، جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے ذہنی معذوری کا شکار 82 کھلاڑیوں نے شرکت کی۔
نیشنل گیمز کے بعد کھلاڑی سلیکشن کیمپوں میں شرکت کریں گے جہاں سے 85 کھلاڑیوں کا انتخاب 10 کھیلوں کے لیے کیا جائے گا جو 15 سے 23 اکتوبر 2027 تک سانتیاگو (چلی) میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔