انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان سہ فریقی سیریز کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر شاہین شاہ آفریدی اور سعود شکیل سمیت پاکستانی کھلاڑیوں پر جرمانہ عائد کردیا ہے۔

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جنوبی افریقی بلے باز میتھیو بریٹزکے کو کراچی میں کھیلے جانے والے میچ کے دوران جان بوجھ کر روکنے پر بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق شاہین شاہ آفریدی پر ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.

12 کی خلاف ورزی کرنے پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے جو کسی بھی بین الاقوامی میچ کے دوران کھلاڑی، سپورٹ اسٹاف، امپائر، میچ ریفری یا کسی دوسرے شخص (بشمول تماشائی) کے ساتھ نامناسب رویے یا جسمانی ٹکراؤ سے متعلق ہے۔

یہ کرکٹ کی تاریخ کا 28 ویں واقعہ تھا جب شاہین شاہ آفریدی بریٹزکے سے اس وقت ٹکرا گئے جب وہ سنگل رن کے لیے پچ پر بھاگ رہے تھے۔ اس کے بعد دونوں کھلاڑیوں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی جس کے نتیجے میں گراؤنڈ پر موجود امپائر نے مداخلت کی اور صورتحال پر قابو پایا۔

شاہین شاہ آفریدی کے علاوہ مزید 2 پاکستانی کھلاڑی سعود شکیل اور متبادل فیلڈر کامران غلام کو بھی جنوبی افریقہ کے کپتان ٹیمبا باووما کے آؤٹ ہونے پر ان کے بالکل قریب جا کر غیر مناسب انداز سے جشن منانے پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

آئی سی سی کے مطابق پاکستان کے دونوں کھلاڑیوں پر ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.5 کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔

اس آرٹیکل کا تعلق ایسی زبان، اقدامات یا اشاروں کے استعمال سے ہے جو بین الاقوامی میچ کے دوران بلے باز کے آؤٹ ہونے پر جارحانہ رد عمل کا باعث بن سکتی ہیں۔ شاہین آفریدی، سعود شکیل اور کامران غلام کو بھی ڈسپلنری ریکارڈ پر ایک ایک ڈی میرٹ پوائنٹ دیا گیا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 6 وکٹوں سے شکست دے کر سہ ملکی سیریز کے فائنل میں جگہ بنالی ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان محمد رضوان اور سلمان علی آغا کی شاندار سنچریوں کی بدولت میزبان ٹیم نے 353 رنز کا ہدف 4 وکٹوں اور 6 گیندوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جرمانہ عائد سعود شکیل شاہین شاہ آفریدی کامران غلام

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سعود شکیل شاہین شاہ ا فریدی کامران غلام جرمانہ عائد کیا گیا ہے شاہین شاہ آفریدی کی خلاف ورزی ضابطہ اخلاق سعود شکیل کے دوران

پڑھیں:

بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 24 جولائی 2026ء) یورپی یونین کے حکام کے مطابق اس پلیٹ فارم کے بعض ڈیزائن فیچرز بچوں کو جنسی استحصال کرنے والے افراد اور سائبر بُلیئنگ جیسے خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔

یہ الزامات ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (ڈی ایس اے) کے تحت جاری کیے گئے ابتدائی نتائج کے بعد عائد کیے گئے ہیں۔ اس قانون کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر غیر قانونی اور نقصان دہ آن لائن مواد کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر اقدامات کرنا لازم ہے۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران ٹک ٹاک کے خلاف یہ چوتھا بڑا مقدمہ ہے۔

یورپی یونین کے انتظامی بازو یورپی کمیشن کے ٹیکنالوجی کے شعبے کا نگران ذیلی دفتر کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک کے صارف اکاؤنٹس ڈی ایس اے کے حفاظتی معیارات پر پورا نہیں اترتے۔

(جاری ہے)

یورپی کمیشن کے مطابق ٹک ٹاک بچوں کو اپنے اکاؤنٹس پبلک رکھنے کی اجازت دیتا ہے، جس سے ان کی پوسٹس ہر شخص کے لیے قابل رسائی ہو جاتی ہیں اور وہ سائبر بُلیئنگ یا آن لائن بدسلوکی کرنے والے افراد کے ساتھ رابطے میں آ جانے کے خطرے سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

کمیشن نے مزید کہا کہ پرائیویٹ اکاؤنٹس رکھنے والے بچوں کو بھی مکمل تحفظ حاصل نہیں، کیونکہ دوسرے صارفین کی 'فالونگ‘ اور 'فالورز‘ فہرستوں کے ذریعے ان کے اکاؤنٹس آسانی سے تلاش کیے جا سکتے ہیں، حتیٰ کہ ایسے افراد بھی انہیں ڈھونڈ سکتے ہیں جن کا ٹک ٹاک پر اپنا کوئی اکاؤنٹ موجود نہ ہو۔

یورپی کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ کم عمر صارفین کے پبلک اکاؤنٹس کی ڈیفالٹ سیٹنگز تبدیل کی جائیں تاکہ ان کا مواد ازخود صرف انہی ٹک ٹاک صارفین کو نظر آئے جنہیں متعلقہ بچوں نے خود اجازت دے رکھی ہو۔

ٹک ٹاک کا ردعمل

دوسری جانب ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ یورپی کمیشن کے ابتدائی تحقیقاتی نتائج کا جائزہ لے گا اور ریگولیٹر کے ساتھ تعمیری تعاون جاری رکھے گا۔

اس کمپنی کے ایک بیان میں کہا گیا، ''ٹک ٹاک پر نوعمر صارفین کے اکاؤنٹس میں رجسٹریشن کے وقت ہی ماہرین کی مشاورت سے تیار کردہ 50 سے زائد پرائیویسی اور حفاظتی فیچرز فعال ہوتے ہیں۔

‘‘

اب ٹک ٹاک کو یورپی کمیشن کی دستاویزات کا جائزہ لینے اور اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا، جس کے بعد کمیشن اپنا حتمی فیصلہ جاری کرے گا۔ اگر اس کمپنی کے خلاف عائد کردہ الزامات ثابت ہو گئے، تو ٹک تاک پر اس کی سالانہ عالمی آمدنی کے 6 فیصد تک کے برابر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ ٹک ٹاک اس سے قبل بھی دو مقدمات میں ممکنہ جرمانوں سے بچنے کے لیے یورپی ریگولیٹرز کو مختلف رعایتیں دینے پر آمادہ ہو چکا ہے، جبکہ اس کے خلاف ایک کیس میں تحقیقات تاحال جاری ہیں۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • بچوں کی آن لائن حفاظت: ٹک ٹاک پر یورپی یونین کی فرد جرم عائد
  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے