اسلام آباد (وقائع نگار+ نوائے وقت رپورٹ) وزارت خزانہ کے پارلیمانی سیکرٹری سعد وسیم شیخ نے ایک سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ ایف بی آر کو اپنے ہدف کے حصول میں اب تک 386ارب روپے کا شارٹ فال ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں، ابھی وقت ہے، ایف بی آر اپنا ہدف پورا کرلے گی۔ انہوں نے اس تاثر کی نفی کی کہ حکومت کوئی نیا ٹیکس لگانے کے حوالے سے کوئی منصوبہ بندی نہیں کررہی ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری نے ایوان کو بتایا کہ ملک میں سیلولر کمپنیوں کے انضمام کی خبریں عام ہیں جس سے خدشہ ہے کہ مارکیٹ میں کسی کمپنی کی اجارہ داری قائم نہ ہو جائے۔ ایک سوال کے جواب میں وزارت تعلیم و تربیت کی پارلیمانی سیکرٹری فرح اکبر ناز نے کہا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے چار سرکاری کالجوں میں کیمبرج کلاسز کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے۔ سید نوید قمر کے سوال پر پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر درشن نے ایوان کو بتایا کہ یو ایس ایڈ کے تحت پاکستان میں 45ملین ڈالر کے تحت مختلف پروگرامز چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کے بیان کے بعد حکومت کی جانب سے یو ایس ایڈ حکام سے ان منصوبوں کے مستقبل کے بارے میں دریافت کیا گیا ہے۔ اگر یہ فنڈنگ رکتی ہے تو حکومت ان پروگرامز کو مکمل کرنے کے لیے متبادل ریسورسز کی جانب جائے گی۔ پارلیمانی سیکرٹری آئی ٹی ذوالفقار بھٹی نے ایوان کو بتا یا کہ 2030 تک ملک میں آئی ٹی کے شعبے کی ایکسپورٹ 30ارب ڈالر سے زائد ہوگی۔ ایوان میں پارلیمانی سیکرٹریز کی جانب سے تسلی بخش جوابات نہ ملنے پر پی پی کے سنیئر رہنما سید نوید قمر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت پارلیمنٹ کو چلانے میں سنجیدہ نہیں ہے تو اسے آئوٹ سورس کردے، یہ روش درست نہیں ہے۔ وقفہ سوالات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے اراکین ایوان میں احتجاجی نعروں سے مزین بینرز اور پلے کارڈ اٹھائے اجلاس میں آئے اور سپیکر سے نقطہ اعتراض پر بات کرنے کی اجازت چاہی۔ سپیکر نے انہیں اجازت نہ دی جس پر پی ٹی آئی اراکین نے نعرے بازی جبکہ ایم این اے شاہد خٹک نے کورم کی نشاندہی کی۔ گنتی کرنے پر کورم پورا نہ ہوا تو سپیکر نے ایوان زیر یں کا اجلاس پیر کی شام تک ملتوی کردیا۔تحریک انصاف سے نکالے گئے شیر افضل مروت نے بھی مجھے کیوں نکالا کا نعرہ بلند کردیا۔قومی اسمبلی اجلاس کے دوران شیر افضل مروت کی اسمبلی آمد پر حکومتی اراکین نے ڈیسک بجائے جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ آپ لوگ انہیں مروا نہ دینا۔پی ٹی آئی ارکان چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان کی قیادت میں ایوان پہنچے۔ قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران سپیکر نے موبائل کمپنیوں کے ضم ہونے پر ضمنی سوال کرنے کا کہا تو شیر افضل مروت نے کہا کہ میرا سوال تو ابھی صرف اپنے لوگوں سے ہے کہ مجھے کیوں نکالا ہے ؟۔ شیر افضل مروت کے مختصر نکتہ اعتراض پر حکومتی ارکان نے قہقہے لگائے ۔ حکومتی ارکان نے بھی مروت کو کیوں نکالا جواب دو اور ظالمو جواب دو، مروت کا حساب دو کے نعرے بلند کیے۔لیکن پی ٹی آئی اراکین خاموش رہے۔  بیرسٹر گوہر نے اپنے مائیک کے سامنے بانی پی ٹی آئی کی تصویر رکھ لی۔ پی ٹی آئی ارکان بانی پی ٹی آئی کی تصاویر اٹھائے ہوئے تھے، پی ٹی آئی ارکان پلے کارڈز ڈیسک پر رکھ کر بیٹھ گئے۔ پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے کہا کہ  جو 10 وکیل بانی پی ٹی آئی سے ملنے جیل جاتے ہیں ان میں سے کیس لڑنے والا ایک ہی ہوتا ہے، باقی 9 وکیل بانی پی ٹی آئی کے کان بھرنے اور پیغام رسانی کیلئے جاتے ہیں۔ شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ جو نامور وکلاء میڈیا پر نظر آتے ہیں، کسی عدالت میں آپ کو یہ وکیل کے طور پر نظر نہیں آئیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان وکلاء  نے بنیادی طور پر پیغام رسانی کا کام شروع کیا ہوا ہے، وکلاء جا کر بانی پی ٹی آئی کو شکایات لگاتے ہیں۔ کیا بانی پی ٹی آئی اتنی جلدی بات پر یقین کر لیتے ہیں؟۔ صحافی کے اس سوال پر رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا کہ یہ لوگ بانی پی ٹی آئی کے مزاج کو اچھے طریقے سے جانتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پارلیمانی سیکرٹری شیر افضل مروت نے بانی پی ٹی ا ئی قومی اسمبلی کیوں نکالا نے کہا کہ نے ایوان ایوان کو

پڑھیں:

پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
 تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری