Jasarat News:
2026-07-24@14:47:27 GMT

سولر امپورٹ میں مالی بدعنوانی: کون ذمے دار؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT

سولر امپورٹ میں مالی بدعنوانی: کون ذمے دار؟

پاکستان میں توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے سولر انرجی کو فروغ دینے کی پالیسی اپنائی گئی تھی، لیکن اس مثبت اقدام کو بھی بدعنوان عناصر نے کرپشن کا ذریعہ بنا لیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں سولر پینلز کی درآمد میں منی لانڈرنگ، اوور انوائسنگ، اور جعلی کمپنیوں کے ذریعے اربوں روپے بیرون ملک منتقل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ معاملہ محض مالی بدعنوانی کا نہیں، بلکہ اس سے پاکستان کے بینکاری نظام، تجارتی پالیسیوں، اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر بھی کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ ایف بی آر کی بریفنگ کے مطابق 80 میں سے 63 کمپنیاں اوور انوائسنگ میں ملوث نکلیں، اور صرف ایک ڈمی کمپنی نے ہی 2.

29 ارب روپے کی سولر مصنوعات درآمد کیں، جبکہ 2.58 ارب روپے کی فروخت ظاہر کی۔ اس کے علاوہ، 117 ارب روپے کی رقم بیرون ملک بھیجی گئی، جس میں سے 54 ارب روپے کی اوور انوائسنگ پکڑی گئی۔ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ ادائیگیاں چین کے بجائے 10 دیگر ممالک کو کی گئیں، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ منی لانڈرنگ کا معاملہ بھی ہے۔ یہ سوال نہایت اہم ہے کہ کیسے ایک کمزور مالی حیثیت رکھنے والی کمپنی اتنی بڑی ٹرانزیکشنز کرنے میں کامیاب ہوئی؟ بینکوں کا بنیادی کردار ایسی مشکوک مالیاتی سرگرمیوں کو روکنا ہے، لیکن اس کیس میں کئی بینکوں نے اس عمل کو نظر انداز کیا۔ کئی نجی بینک اور دیگر مالیاتی ادارے اس معاملے میں ملوث نظر آتے ہیں، جنہوں نے ان کمپنیوں کے ساتھ بڑی ٹرانزیکشنز کیں۔ اسٹیٹ بینک، جو ملک کے مالیاتی نظام کا نگران ہے، اس حوالے سے تاخیر کا شکار رہا۔ بینکوں پر محض 20 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کرنا ایک معمولی کارروائی ہے، جبکہ معاملہ اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا ہے۔ اگر 2019 میں ہی ایس ٹی آر رپورٹس ایف بی آر اور ایف آئی اے کو فراہم کی جاچکی تھیں، تو پھر کارروائی میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟ حکومت نے سولر پینلز کی درآمد کو ڈیوٹی فری رکھا تاکہ عوام کو سستی توانائی فراہم کی جا سکے، لیکن بدعنوان افراد نے اس پالیسی کو غیر قانونی دولت کمانے کا ذریعہ بنا لیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت نے کسی بھی قسم کی نگرانی کا مؤثر نظام نافذ کیا؟ اگر سولر کی قیمت 2018 سے 2023 کے دوران 0.08 سے 0.16 امریکی سینٹ فی واٹ رہی، تو پھر اس قدر زیادہ قیمت پر درآمدات کیوں ہوئیں؟ یہ کیس اس بات کی علامت ہے کہ مالیاتی نگرانی کے ادارے، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، اور دیگر متعلقہ محکمے اپنی ذمے داری پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس ضمن میں چند سوالات جن کے جوابات ضروری ہیں: جعلی کمپنیوں کو رجسٹر کرنے میں ایس ای سی پی کا کردار کیا رہا؟ جب اتنی بڑی رقوم بینکوں کے ذریعے بیرون ملک منتقل کی گئیں، تو کیا اسٹیٹ بینک نے اپنی نگرانی کی ذمے داری ادا کی؟ کیا ایف آئی اے نے اس معاملے پر کوئی سنجیدہ تحقیقات کیں؟ یہ ضروری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر جامع تحقیقات کریں، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچائیں، اور آئندہ کے لیے ایسی مالی بدعنوانی کو روکنے کے مؤثر اقدامات کریں۔ بصورت دیگر پاکستان کی معیشت مزید کمزور ہوگی اور عوام کا مالیاتی نظام پر اعتماد ختم ہوتا چلا جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ارب روپے کی

پڑھیں:

پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

اسلام آباد: ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نئے نرخوں کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا۔

اوگرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد ڈیزل 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔

حکام کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر رات 12 بجے کے بعد سے ہوگا، جس کے بعد ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس پر نئے نرخ نافذ ہو جائیں گے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر مرتب ہو رہے ہیں۔ گزشتہ چند روز کے دوران بھی مختلف پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار اضافہ کیا جا چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خور و نوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، جس کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

نئی قیمتیں ایک نظر میں
پیٹرول: 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر (4.40 روپے اضافہ)
ہائی اسپیڈ ڈیزل: 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر (3.62 روپے اضافہ)

اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قیمتیں آئندہ حکم نامے تک نافذ العمل رہیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت نے قرضوں پر مارک اپ کی شرح 11.89 فیصد سالانہ مقرر کردی
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم