سولر امپورٹ میں مالی بدعنوانی: کون ذمے دار؟
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2025 GMT
پاکستان میں توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے سولر انرجی کو فروغ دینے کی پالیسی اپنائی گئی تھی، لیکن اس مثبت اقدام کو بھی بدعنوان عناصر نے کرپشن کا ذریعہ بنا لیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں سولر پینلز کی درآمد میں منی لانڈرنگ، اوور انوائسنگ، اور جعلی کمپنیوں کے ذریعے اربوں روپے بیرون ملک منتقل کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ معاملہ محض مالی بدعنوانی کا نہیں، بلکہ اس سے پاکستان کے بینکاری نظام، تجارتی پالیسیوں، اور سرکاری اداروں کی کارکردگی پر بھی کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ ایف بی آر کی بریفنگ کے مطابق 80 میں سے 63 کمپنیاں اوور انوائسنگ میں ملوث نکلیں، اور صرف ایک ڈمی کمپنی نے ہی 2.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ارب روپے کی
پڑھیں:
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اسلام آباد: مٹی کے تیل کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی مزید مہنگے ہو گئے ہیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور پیٹرولیم ڈویژن نے نئی قیمتوں کے نوٹیفکیشن جاری کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 7 روپے 80 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 297 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل مٹی کا تیل 289 روپے 37 پیسے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔
حکام کے مطابق صرف تین روز کے دوران مٹی کے تیل کی قیمت میں مجموعی طور پر 14 روپے 58 پیسے فی لیٹر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث خصوصاً سرد علاقوں اور گھریلو صارفین پر مالی بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب پیٹرولیم ڈویژن نے بھی پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 6 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 327 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل 7 روپے 83 پیسے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد 375 روپے 04 پیسے فی لیٹر میں فروخت ہوگا۔
اعلامیے کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق 23 جولائی 2026 سے کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے بعد مسلسل بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں نے عوام، ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی شعبے اور کاروباری سرگرمیوں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو آئندہ بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید ردوبدل کا امکان موجود ہے۔