نیشنل پولیس اکیڈمی کو ملٹری اکیڈمی کاکول کی طرز پر استوار کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2025 GMT
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) نیشنل پولیس اکیڈمی کو ملٹری اکیڈمی کاکول کی طرز پر استوار کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ نجی ٹی وی چینل کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے کمیٹی روم میں اکیڈمی کی تنظیم نو کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی۔ کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی محمد ادریس احمد نے این پی اے کی تنظیم نو کے ماسٹر پلان کے بارے میں وزیر داخلہ کو بریفنگ دی ، محسن نقوی نے ضروری تبدیلیوں کے بعد ماسٹر پلان دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی، نیشنل پولیس اکیڈمی کی تنظیم نو کے پروجیکٹ پر مرحلہ وار عمل درآمد ہو گا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیشنل پولیس اکیڈمی کو ملٹری اکیڈمی کاکول کی طرز پر استوار کیا جائے گا، جدید دور کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکنِیکل ٹریننگ سینٹر، انڈور اور آؤٹ ڈور فائرنگ رینج بھی بنائی جائے گی۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پریڈ گراؤنڈ کو بڑا اور خوبصورت بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اکیڈمی میں ایلیٹ فورس ٹریننگ اسکول بھی بنے گا، ہمارا مقصد نیشنل پولیس اکیڈمی کو ایک بین الاقوامی معیار کا ادارہ بنانا ہے جہاں بیرون ملک سے بھی افسران تربیت کے لیے آئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اکیڈمی کا
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔