’ان کے پاس ہم سے زیادہ پیسہ ہے،‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا کو فنڈنگ بند کردی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا میں ووٹرز ٹرن آوٹ بڑھانے کے لیے امریکا کی جانب سے کی جانے والی فنڈنگ روکنے کا اعلان کردیا ہے۔
امریکی حکومت کے اخراجات کم کرنے کے لیے بنائے گئے ادارے ’ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشی اینسی‘ (ڈی او جی ای) کے مطابق امریکا کی طرف سے بھارت میں ووٹروں کی تعداد بڑھانے کے لیے 21 ملین ڈالرز کی فنڈنگ ہوتی تھی جسے بند کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یو ایس ایڈ کو کیوں بند کرنا چاہتے ہیں؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہم 21 ملین ڈالرز کا فنڈ بھارت کو کیوں دے رہے ہیں؟ ان کے پاس ہم سے زیادہ پیسہ ہے، وہ دنیا میں سب سے زیادہ ٹیکس عائد کرنے والا ملک ہے۔
واضح رہے کہ ایلون مسک کو نئی ٹرمپ انتظامیہ نے ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفی شیئنسی (ڈی او جی ای) کا سربراہ مقرر کیا ہے جس کا مقصد امریکی وفاقی حکومت کے زائد اخراجات میں کمی اور غیرضروری آپریشنز بند کرنا ہے۔
ڈی او جی ای نے بھارت کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش اور نیپال میں امریکا کی جانب سے مختلف شعبوں کی جانے والی فنڈنگ بھی بند کردی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
Donald Trump ڈونلڈ ٹرمپ نریندر مودی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔