پیٹرول چھڑک کر مصطفیٰ سے کہا ڈگی و شیشے کھلے ہیں، ہمت ہے تو بھاگ جاؤ: ملزم ارمغان کے سنسنی خیز انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
’جیو نیوز‘ گریب
مصطفیٰ اغواء اور قتل کیس کی تفتیش کے دوران ملزم ارمغان کی جانب سے سنسنی خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔
ملزم ارمغان کی نشاندہی پر پولیس نے آلۂ ضرب برآمد کر لیا، برآمد ہونے والے آلۂ ضرب کی تصویر ’جیو نیوز‘ نے حاصل کر لی۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم ارمغان کی نشاندہی پر خیابانِ مومن میں اس کے بنگلے پر کارروائی کی گئی، بنگلے کے گارڈ روم میں چھپایا گیا ڈنڈا برآمد کر لیا گیا ہے۔
نوجوان مصطفیٰ عامر کے اغواء اور قتل کا ملزم ارمغان کمرۂ عدالت میں بے ہوش ہو گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے لوہے کی راڈ سے مصطفیٰ کو 2 گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔
تفتیش کے دوران ملزم ارمغان نے بتایا کہ تشدد کے دوران مصطفیٰ کے سر اور گھٹنوں سے خون بہنا شروع ہو گیا تھا، 6 جنوری کو شیراز اور مصطفیٰ کو اپنے بنگلے پر بلایا، مصطفیٰ کے بنگلے پر پہنچنے کے بعد اس پر تشدد کیا۔
ملزم ارمغان نے انکشاف کیا کہ مصطفیٰ پر تشدد کے دوران میں نشے کی حالت میں تھا، مصطفیٰ کا خون بہنے پر مجھے شیراز نے روکا، شیراز کی مدد سے مصطفیٰ کو اسی کی گاڑی میں ڈال کر حب لے گئے۔
ملزم ارمغان کا کہنا ہے کہ حب لے جا کر گاڑی کی ڈگی کھولی تو مصطفیٰ زندہ تھا، ڈگی اور گاڑی کے شیشے کھولنے کے بعد اس پر پیٹرول چھڑکا، مصطفیٰ کو کہا کہ ڈگی اور شیشے کھلے ہیں، ہمت ہے تو بھاگ جاؤ، مصطفیٰ نے حرکت کی کوشش کی لیکن گھٹنوں پر چوٹ کے باعث ہل نہیں پایا۔
ملزم ارمغان نے بتایا کہ آگ لگنے کے فوراً بعد مجھے شیراز نے وہاں سے چلنے کا کہا، میں اور شیراز حب سے پیدل نکلے اور مختلف گاڑیوں سے لفٹ لے کر کراچی پہنچے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔