پیٹرولیم ڈیلرز سندھ نے بھی ملک گیر ہڑتال کی حمایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT
اسلام آباد:
آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سندھ نے بھی ڈی ریگولیشن کے خلاف 4 مارچ کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کردیا۔
یہ اعلان منگل کو آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سندھ کی سینڑل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن رضا عباس نے مرکزی رہنما نعمان بٹ و دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا۔
رضا عباس نے کہا کہ 4مارچ سے شروع ہونے والی ملک گیر ہڑتال کی کال غیر معینہ مدت کے لیے ہوگی اور ہڑتال حکومت کی جانب سے مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی، پیٹرولیم سیکٹر کی ڈی ریگولیشن چند او ایس سیز کی کارٹلائزیشن کا باعث بنے گی۔
انہوں ںے کہا کہ وزارت پیٹرولیم چند کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کررہی ہے ڈی ریگولیشن کرکے پیٹرولیم سیکٹر چند پلئیرز کے ہاتھوں یرغمال بنایا جارہا ہے، پی پی ڈی اے کی کال پر 4 مارچ کو کراچی، سندھ کے تمام پیٹرول پمپس بند کردیں گے۔
آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما نعمان بٹ نے کہا کہ ڈی ریگولیشن کے خلاف ملک کے ہر ضلع میں احتجاج جاری ہے، وزارت پیٹرولیم نے ڈی ریگولیشن پر 15ہزار ڈیلرز کے نمائندوں کو اعتماد میں نہیں لیا، ڈیلرز مجوزہ ڈی ریگولیشن کے فارمولے سے مکمل لاعلم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈی ریگولیشن سے معیاری پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی ناممکن ہوجائے گی، وزیر پیٹرولیم ریفائنریز کو 5 فیصد ایتھانول استعمال کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں لیکن مقامی ریفائنریز ایتھانول کے ساتھ کوالٹی پیٹرولیم مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔
نعمان بٹ نے کہا کہ ڈی ریگولیشن سے صارفین براہ راست متاثر ہوں گے، ایک معروف ڈیلر غیر رجسٹرڈ ایسوسی ایشن چلارہے ہیں، آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن وزارت میں باقاعدہ رجسٹرڈ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈی ریگولیشن نے کہا کہ
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔