پاکستان میں چیمپیئنز ٹرافی کے میچز کا انعقاد ہو رہا ہے، اس سے قبل لاہور کے قذافی، کراچی کے جناح اور راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش کا کام کیا گیا تھا اور بعض جگہ پر خندقیں بھی بنائی گئی تھیں، تا کہ کوئی بھی تماشائی کرکٹ گراؤنڈ میں داخل نہ ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں:’یہ کونسی اولمپکس میں لانگ جمپ لگاتا رہا ہے؟‘، قذافی اسٹیڈیم میں تماشائی میدان میں داخل

 تاہم 2 دنوں میں لاہور کے قذافیا سٹیڈیم اور راولپنڈی اسٹیڈیم میں 2 ایسے واقعات ہو چکے ہیں کہ جب نوجوان گراؤنڈ میں داخل ہو گئے اور میچ میں خلل پیدا ہوا، بعد ازاں دونوں نوجوانوں کو گرفتار کر کہ آنے کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے۔

وی نیوز نے قانونی ماہرین سے گفتگو کی اور ان سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات میں کون سی دفعات شامل کی گئی ہیں اور ان نوجوانوں کو کون سی سزا ہو سکتی ہے؟

نواجون کیخلاف 186 اور 447 کا استعمال

ماہر قانون عمران شفیق ایڈووکیٹ نے وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کے گراؤنڈ سے حراست میں لیے گئے فتح جنگ سے تعلق رکھنے والے عبدالقیوم کے خلاف دفعہ 186 اور 447 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

دفعہ 186 کے مطابق اس نوجوان نے سیکیورٹی پر مامور اہلکار کی ڈیوٹی میں مداخلت کی ہے، اس جرم کی سزا 3 ماہ سے ایک سال قید اور 5 سے 50 ہزار روپے تک کا جرمانہ ہے، جبکہ یہ جرم قابل ضمانت ہے۔

عمران شفیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ مقدمے میں درج دوسری دفعہ 447 ہے، جس کے مطابق یہ نوجوان غیر قانونی طور پر کسی جگہ پر داخل ہو گیا ہو،  اس جرم کی سزا بھی 3 ماہ ہی ہے اور اور ساتھ میں 3 ہزار روپے جرمانہ بھی ہو سکتا ہے جبکہ یہ جرم بھی قابل ضمانت ہے، اگر یہ نوجوان مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہو ضمانت کے مچلکے جمع کروائے جائیں تو مجسٹریٹ اس کو ضمانت پر گھر بھیج گا۔

ماہر قانون نے کہا کہ دفعہ 186 کے مطابق اگر کوئی شخص کسی سرکاری ملازم کو اپنے ڈیوٹی کے انجام میں مداخلت کرے تو اس کو 3 ماہ سے ایک سال تک سزا اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

 واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں افغانستان اور انگلینڈ کے درمیان چیمپیئنز ٹرافی کے میچ کے اختتام پر افغانستانی ٹیم جیت کی خوشی مناتے ہوئے ایک تماشائی گراؤنڈ میں گھس آیا تھا جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے اس تماشائی کو حراست میں لے کر وہاں سے لے گئے تھے۔

2 روز قبل راولپنڈی میں پولیس نے نیوزی لینڈ اور بنگلہ دیش کے درمیان آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کرکٹ میچ کے دوران راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں داخل ہونے والے تماشائی کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی تھی۔

تماشائی کی شناخت اٹک کے علاقے فتح جنگ سے عبدالقیوم کے نام سے ہوئی تھی جس نے میر بخش انکلوژر کے لیے 1000 روپے کا ٹکٹ خریدا تھا لیکن بعد میں یاسر عرفات انکلوژر چلا گیا اور وہ رکاوٹ عبور کر کے گراؤنڈ میں داخل ہوا تھا جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کر لیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کرکٹ اسٹیڈیم اسٹیڈیم میں میں داخل ہو کے خلاف

پڑھیں:

ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی

اسلام آباد: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مستقبل سے متعلق ایک بار پھر اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی ٹیکنالوجی اتنی تیزی سے ترقی کر رہی ہے کہ آئندہ پانچ برسوں میں یہ تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے بھی آگے نکل سکتی ہے۔

ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث آنے والے برسوں میں تقریباً ہر شعبے اور ہر قسم کے کام میں اے آئی انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہو جائے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگرچہ اے آئی غیر معمولی ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے، تاہم اگلی دہائی میں انسانیت کے لیے اس ٹیکنالوجی پر مؤثر کنٹرول برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

ایلون مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل میں ایسے مواقع پیدا کر سکتی ہے جہاں لوگوں کو بے مثال وسائل، سہولیات اور ترقی کے امکانات میسر ہوں، جبکہ یہ ٹیکنالوجی عالمی تنازعات کے حل اور بہتر فیصلہ سازی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اے آئی کے ممکنہ خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے بقول، جیسے جیسے جدید اے آئی سسٹمز مزید طاقتور ہوتے جائیں گے، ویسے ویسے ان کے غیر متوقع نتائج اور سکیورٹی خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

ایلون مسک نے تجویز دی کہ دنیا کی بڑی اے آئی کمپنیاں باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں، حفاظتی اور سکیورٹی امور پر مشترکہ مشاورت کریں اور صرف حکومتی قوانین پر انحصار کرنے کے بجائے خود بھی ذمہ دارانہ اقدامات کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اے آئی ڈویلپرز کو چاہیے کہ وہ اپنے ماڈلز کو عوام کے لیے جاری کرنے سے قبل ایک دوسرے کے سسٹمز کا جائزہ لیں، ممکنہ خطرات کی نشاندہی کریں اور جدید مصنوعی ذہانت کی محفوظ ترقی کو یقینی بنانے کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایلون مسک کی اے آئی ٹیکنالوجی کے حوالے سے نئی پیشگوئی
  • راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
  • تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل