آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے بحرین کے کمانڈر نیشنل گارڈ کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے بحرین کے کمانڈر نیشنل گارڈ کی ملاقات WhatsAppFacebookTwitter 0 18 March, 2025 سب نیوز
راولپنڈی: (آئی پی ایس) آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے بحرین کے کمانڈر نیشنل گارڈ نے ملاقات کی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق بحرین کے نیشنل گارڈ کے کمانڈر جنرل شیخ محمد بن عیسیٰ بن سلمان الخلیفہ نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سکیورٹی کی صورتحال پر گفتگو کی گئی، دو طرفہ عسکری تعاون کو مزید فروغ دینے کے مواقع پر بھی بات چیت ہوئی۔
ملاقات کے دوران آرمی چیف نے مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے تعاون کی اہمیت پر زور دیا، خطے میں امن اور استحکام کیلئے بھی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بحرین کے کمانڈر نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور دہشت گردی کیخلاف مسلح افواج کی کوششوں کو بھی سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ا رمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے بحرین کے کمانڈر نیشنل گارڈ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔