ہندو شہریوں کو مناسب تحفظ دینے میں ناکامی کا امریکی الزام بے بنیاد ہے، بنگلہ دیش
اشاعت کی تاریخ: 18th, March 2025 GMT
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور عوامی شخصیات کو اپنے بیانات بالخصوص حساس مسائل پر حقیقی معلومات کو مدنظر رکھ کر دینا چاہئیں، اور اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ نقصان دہ دقیانوسی تصورات کی وجہ سے ممکنہ طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی کو تقویت نہ ملے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی انٹیلی جنس سربراہ تلسی گبارڈ پر شدید تنقید کرتے ہوئے بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیائی ملک میں مذہبی تشدد کے بارے میں ان کے تبصرے بے بنیاد ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق تلسی گبارڈ رواں ہفتے بھارت کے سفارتی دورے پر پہنچی تھیں، گزشتہ برس طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک نے بنگہ دیش میں حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، جس کے بعد سے نئی دہلی کے ڈھاکا کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں۔ نئی دہلی نے بارہا بنگلہ دیش پر اقلیتی ہندو شہریوں کو مناسب تحفظ دینے میں ناکام ہونے کا الزام عائد کیا ہے، تاہم ڈھاکا کی نگران انتظامیہ ان الزامات کی تردید کی ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے ساتھ انٹرویو کے دوران بنگلہ دیش میں تشدد کے بارے میں سوال کے جواب میں تلسی گبارڈ نے ان دعوؤں کو تسلیم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مذہبی اقلیتوں کے ساتھ طویل عرصے سے ظلم و ستم، قتل اور بدسلوکی کا معاملہ امریکی حکومت کے لیے باعث تشویش رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتہا پسندی کے ساتھ یہ مسئلے پر خصوصی تشویش کا باعث رہا، مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی انہیں بنگلہ دیشی حکومت کے ساتھ یہ معاملہ اٹھا چکی ہے۔ بنگلہ دیش نے اپنے بیان میں ردعمل دیا ہے کہ تلسی گبارڈ کے تبصرے گمراہ کن اور ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ سیاسی رہنماؤں اور عوامی شخصیات کو اپنے بیانات بالخصوص حساس مسائل پر حقیقی معلومات کو مدنظر رکھ کر دینا چاہئیں، اور اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ نقصان دہ دقیانوسی تصورات کیوجہ سے ممکنہ طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی کو تقویت نہ ملے۔ بنگلہ دیش کی 17 کروڑ آبادی میں سے تقریباً 8 فیصد ہندو ہیں۔ واضح رہے کہ تلسی گبارڈ نے ٹرمپ انتظامیہ میں نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر بننے کے فوراً بعد گزشتہ ماہ واشنگٹن میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے پیر کو دوبارہ ملاقات کی اور تلسی گبارڈ نے نئی دہلی میں ایک جیو پولیٹیکل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکا اور بھارت کے درمیان پائیدار شراکت کی تعریف کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تلسی گبارڈ بنگلہ دیش کے ساتھ
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔