اسلام آباد(نیوز ڈیسک) تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح کم ہو کر 1402 فٹ پر پہنچنے کے بعد بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوگئی ہے۔

ہفتہ کے روز میڈیا رپورٹس کے مطابق بجلی پیدا کرنے والے 17 میں سے 12 یونٹ بند کر دیے گئے ہیں اور اب صرف 5 یونٹ کام کر رہے ہیں۔

یہ پانچ یونٹ قومی گرڈ اسٹیشن کو 455 میگاواٹ بجلی فراہم کر رہے ہیں۔ ڈیم میں پانی کی آمد 17300 کیوسک اور اخراج بھی 17300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ تربیلا ڈیم کے ڈیڈ لیول پر پہنچنے کے بعد ملک میں مجموعی ہائیڈرو پاور پیداوار 1100 میگاواٹ تک محدود ہوگئی ہے۔

واپڈا کی مجموعی پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 9400 میگاواٹ سے زائد ہے لیکن اس وقت صرف 1100 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔

بڑے آبی ذخائر تربیلا اور منگلا ڈیم دونوں ڈیڈ لیول پر پہنچ چکے ہیں جس کی وجہ سے پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، چشمہ ذخیرہ بھی اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق منگلا ڈیم مکمل طور پر بجلی کی پیداوار سے باہر ہوچکا ہے جبکہ تربیلا اوسطاً 440 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔

رواں ہفتے واپڈا کی کل پن بجلی پیداوار 2600 میگاواٹ رہی جبکہ یومیہ اوسط پیداوار تقریباً 1100 میگاواٹ رہی۔

تربیلا ڈیم اس وقت سب سے زیادہ بجلی پیدا کرنے والا ہائیڈرو پاور منصوبہ ہے جو اوسطاً 440 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے، اس کے بعد غازی بروتھا 410 میگاواٹ اور ورسک 61 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں جبکہ چھوٹے ہائیڈرو منصوبے باقی بجلی کی پیداوار میں حصہ ڈال رہے ہیں۔

ان بڑے آبی ذخائر میں پانی کی کمی کے باعث ربیع سیزن کے بقیہ عرصے میں صوبوں کو 30 سے 35 فیصد تک پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کی تنخواہ دار طبقے کو فوری ریلیف دینے سے معذرت

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: میگاواٹ بجلی پیدا بجلی کی پیداوار بجلی پیدا کر تربیلا ڈیم میں پانی پانی کی رہے ہیں

پڑھیں:

پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز مہنگی ہونے کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزیراعظم کی جانب سے تشکیل دی گئی کابینہ کمیٹی برائے ادویات کی قیمتوں کا آٹھواں اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے قومی صحت مصطفیٰ کمال، وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار محمد رضا حیات ہراج، سیکریٹری قومی صحت، ضابطہ و رابطہ محمد اسلم غوری، چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈریپ اور وزارت تجارت و وزارت خزانہ کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے نئی ادویات کی قیمتوں کے تعین، ہارڈ شپ درخواستوں، قیمتوں سے متعلق دیگر معاملات اور ضروری ادویات کی دستیابی کے حوالے سے اپنی سفارشات پر تفصیلی بریفنگ دی۔

بریفنگ میں گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور کمیٹی کے غور کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر زور دیا کہ ادویات کی قیمتوں سے متعلق فیصلے شفاف، شواہد پر مبنی، مشاورتی عمل کے تحت اور وسیع تر عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ضروری ادویات تک مریضوں کی رسائی، ادویہ ساز صنعت کی پائیدار فراہمی اور مریضوں کے لیے ادویات کی استطاعت کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔

وزیر خزانہ نے اس امر پر بھی زور دیا کہ اہم ادویات سے متعلق فیصلوں کی وجوہات عوام تک واضح انداز میں پہنچائی جائیں تاکہ ان کے پس منظر اور مقاصد کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
  • پی ڈی ایم اے پنجاب کا شدید بارشوں کا الرٹ، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • کراچی سمیت ملک کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی، اربن فلڈنگ کا خدشہ
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ