صوبہ پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مقامی عدالت نے گذشتہ برس بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون ماریہ بی بی کے مقدمے میں ان کے والد اور بھائی کو مجرم قرار دیتے ہوئے پھانسی اور 10، 10لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی جبکہ مقتولہ کی بھابھی اور بڑے بھائی کو بری کر دیا گیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ والد کی موجودگی میں بھائی کا اپنی بہن کو قتل کرنا خاندان کی ملی بھگت کی نشاندہی کرتا ہے۔ خوفناک واردات کے بعد والد کا اپنے بیٹے کو پانی پلانا اس کو مزید سنگین بناتا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ برس خاتون کے قتل کی مبینہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے مقتولہ کے بھائی اور والد کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف مقدمے درج کیے تھے۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ ایک شخص کسی خاتون کا گلا دبا رہا ہے جبکہ اس موقع پر ایک خاتون سمیت دیگر دو افراد بھی موجود تھے۔

پولیس کے مطابق واقعہ نواحی گاؤں میں گذشتہ برس مارچ میں پیش آیا تھا اور خفیہ ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے اپنی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کیا کہا؟

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عبدالحفیظ بھٹہ کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مقتولہ کو اس کے والد اور بھائی نے قتل کیا اورعدالت دونوں کو مجرم قرار دیتی ہے جبکہ دوسرے بھائی اور بھابھی کو باعزت بری کیا جاتا ہے۔

عدالت نے کہا اس کیس میں والد کی موجودگی میں بھائی کا اپنی بہن کو قتل کرنا خاندان کی ملی بھگت کی نشاندہی کرتا ہے اور اس انتہائی خوفناک واردات کے بعد والد کا اپنے بیٹے کو پانی پلانا اس کو مزید سنگین بناتا ہے۔

فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگرچہ والد نے خوداس قتل میں حصہ نہیں لیا مگر جب قتل ہوا تو اس وقت وہ موقع پر موجود تھے۔

انھوں نے اپنے بیٹے کو روکنے کی کوشش نہیں کی اور دوسروں کی حوصلہ شکنی کی جیسے کہ مقتولہ کا بڑا بھائی اور بھابھی جن کو بری کر دیا گیا۔

فیصلے کے مطابق والد کا کہنا کہ یہ میری بیٹی ہے اور مجھے پتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے، قتل کرنے کی منظوری دینا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ والد کا کہنا کہ یہ میری بیٹی ہے اور مجھے پتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا کرنا ہے اور واردات کے بعد مجرم بیٹے کو پانی دینا ان کے مشترکہ ارادے کو ظاہر کرتا ہے۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ’اس طرح کے چونکا دینے والے جرائم پر کسی قسم کی نرمی معاشرے کے لیے بڑے پیمانے پر نقصاں دہ ثابت ہوسکتا ہے اور خواتین کے خلاف تشدد کو معمول بنا سکتا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ والد مقتولہ کا سرپرست تھے اور یہ اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ مقتولہ کی جان ومال کا تحفظ کرتے مگر مجرم نے والد کے ناطے اہم مذہبی اور سماجی ذمہ داری نہیں نبھائی۔

عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کو اچانک اشتعال انگیزی کے نام پر قبول نہیں کرسکتے، یہ اکثر پہلے سے سوچا سمجھا منصوبہ ہوتا ہے اور غیرت کے نام پر قتل قبول نہیں۔ مجرموں کو اس کے قانونی تقاضوں کا سامنا کرنا ہوگا۔’

ماریہ قتل کیس؛ مقتولہ کے والد عبدالستار اور بھائی فیصل کو سزائے موت کا حکم

قبل ازیں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایڈیشنل سیشن جج نے ماریہ قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مقتولہ کے والد عبدالستار اور بھائی محمد فیصل کو سزائے موت کا حکم دے دیا ہے۔

گزشتہ برس رونما ہونے والے بھیانک جرم کے خلاف ایڈیشنل سیشن جج نے ماریہ کے قتل کے جرم میں اس کے والد اور بھائی پر جرم ثابت ہونے پر انھیں سزائے موت دیدی۔

عدالت نے اس کیس میں قتل کی ویڈیو بنانے والے بھائی محمد شہباز کو بری کر دیا، مقتولہ کی بھابھی سمیرا بھی عدالت سے بری ہو گئی، جبکہ قاتلوں پر عدالت نے فی کس 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ ماریہ کو 30 مارچ 2024 کو غیرت کے نام پر اس کے باپ اور بھائی نے نہایت بیدردی سے قتل کیا تھا، اور دوسرے بھائی نے قتل کی اس بھیانک واردات کی ویڈیو بنا لی تھی، جو بعد ازاں پورے ملک میں وائرل ہو گئی تھی۔

فیصل نے گھر والوں کے سامنے 22 سالہ بہن کو باندھ کر اور منہ پر تکیہ رکھ کر قتل کیا

اس واقعہ میں سگے بھائی محمد فیصل نے گھر والوں کے سامنے اپنی 22 سالہ بہن ماریہ کو باندھ کر اور منہ پر تکیہ رکھ کر قتل کیا، قتل کے وقت کمرے میں باپ اور بھابھی سمیت دیگر افراد موجود تھے، لیکن کسی نے سفاک قاتل کو نہ روکا۔

قاتل فیصل نے 3 منٹ تک ماریہ کا منہ تکیے سے دبائے رکھا اور مرنے کی تصدیق کرنے کے بعد رُکا، پولیس حکام کا کہنا تھا کہ 17 اور 18 مارچ کی درمیانی رات ماریہ کو قتل کر کے خاموشی سے تدفین کر دی گئی تھی۔

مقتولہ کے بھائی شہباز اور بھابھی نے انکشاف کیا تھا کہ ماریہ نے انھیں اپنے ساتھ زیادتی کا بتایا تھا۔ بھائی شہباز کا کہنا تھا کہ افطاری کے بعد جب بہن نے مجھ سے شکایت کی تو میں نے اپنے والد اور بھائی سے بات کی، لیکن جب میں باہر آیا تو والد اور بھائی نے میرے آنکھوں کے سامنے بہن کو قتل کر دیا۔ واضح رہے کہ قاتل جوڑی نے بعد ازاں شہباز پر الزام ڈالنے کی بھی کوشش کی تھی۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: والد اور بھائی فیصلے میں کہا بہن کو قتل کر اور بھابھی مقتولہ کے کے نام پر بھائی نے عدالت نے نے اپنے کا کہنا کے والد کرتا ہے کہا گیا والد کا بیٹے کو قتل کیا قتل کی کر دیا کے بعد ہے اور تھا کہ

پڑھیں:

کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی:

شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔

اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔ 

23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔ 

مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔ 

مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔ 

واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔ 

واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ 

گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن