اسرائیل نے آسکر انعام یافتہ فلسطینی فلمساز حمدان بلال کو رہا کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, March 2025 GMT
مقبوضہ مغربی کنارہ: اسرائیلی پولیس نے آسکر ایوارڈ یافتہ فلسطینی فلمساز حمدان بلال کو ایک دن بعد رہا کر دیا، جنہیں "پتھراؤ" کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ تاہم، انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، بلال پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کے بعد انہیں غیر منصفانہ طور پر گرفتار کیا گیا تھا۔
فلسطینی صحافی باسل عدرا، جو بلال کے ساتھ آسکر جیتنے والی دستاویزی فلم "No Other Land" میں کام کر چکے ہیں، نے بلیڈ اسٹین شدہ قمیض پہنے بلال کی ایک تصویر X (سابقہ ٹوئٹر) پر شیئر کی۔
بلال نے ایک ویڈیو میں کہا، "آسکر جیتنے کے بعد، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسے حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ بہت شدید حملہ تھا، اور مقصد مجھے مارنا تھا۔"
بلال کے مطابق، "ایک اسرائیلی آبادکار نے مجھ پر حملہ کیا، اور میرے جسم کے مختلف حصوں پر مارا۔ اس کے ساتھ ایک فوجی بھی تھا، جو مجھے بری طرح پیٹ رہا تھا۔"
اسرائیلی پولیس کے ایک ترجمان نے بلال کی گرفتاری کی تصدیق کی، جبکہ بعد میں جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ تین افراد کو ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔
حمدان بلال کی گرفتاری اور رہائی نے بین الاقوامی سطح پر فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو مزید بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنان مغربی کنارے میں جاری ظلم و جبر پر عالمی برادری کی خاموشی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔