جاوید اختر نے فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کے گانے کیوں نہیں لکھے؟ دلچسپ وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
شاہ رخ خان اور کاجول کی 1998 کی بلاک بسٹر فلم کچھ کچھ ہوتا ہے کی کہانی اور نغموں نے شاندار کامیابی حاصل کی تھی۔
کلاسک نغموں سے سجی اس فلم میں شاہ رخ خان، کاجول اور رانی مکھرجی نے شاندار اداکاری سے مداحوں کے دل جیت لیے تھے۔
تاہم چند ہی لوگوں کو معلوم ہے کہ کرن جوہر کی اس فلم کے گیت لکھنے سے جاوید اختر نے معذرت کرلی تھی حالانکہ انھیں فلم کی کہانی بہت اچھی لگی تھی۔
جس کے بعد نغمہ نگار سمیر انجان نے اس فلم کے گیت لکھے تھے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں سمیر انجان نے دلچسپ انکشافات کیے ہیں۔
سمیر انجان کے بقول جاوید صاحب کو فلم کی کہانی بہت پسند آئی تھی لیکن انھیں فلم کے نام پر اعتراض تھا۔
جاوید اختر کا کہنا تھا کہ ایک رومانوی فلم کا نام کچھ کچھ ہوتا ہے، عجیب سا لگتا ہے اگر کرن جوہر فلم کا نام تبدیل کردیں تو میں گیت لکھ دوں گا۔
تاہم کرن جوہر نے فلم کا نام تبدیل کرنے کی تجویز کو قابل عمل نہیں سمجھا جس کے بعد فلم کے گیت سمیر انجان نے لکھے تھے۔
سمیر انجان کے بقول میں نوجوان تھا اور سمجھ سکتا تھا کہ جب آپ کو محبت ہوتی ہے تو پھر کچھ کچھ ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: فلم کے
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثناءاللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے۔ اپنے بیان میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے عناصر کو اخلاقیات، دیانت داری اور شفافیت پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ ہوش کے ناخن لیں اور سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بے بنیاد بیانات دینے سے گریز کریں کیونکہ پیپلز پارٹی کے خلاف ہر الزام اور ہر بیان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ سندھ کے خلاف زہر اگلنے والوں کو پہلے شریف خاندان کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، بیرون ملک جائیدادوں اور دیگر معاملات کا جواب دینا چاہیئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی رہنما اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بے بنیاد کہانیاں گھڑ رہے ہیں، جبکہ ان کی سیاست ہمیشہ سہاروں، ڈیلز اور مفاہمت پر قائم رہی ہے۔ سعدیہ جاوید نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی موجودہ سیاسی بے چینی اس بات کی غماز ہے کہ اسے آزاد کشمیر کے انتخابات میں شکست کا واضح خدشہ ہے، اسی لیے عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ہوا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے وسائل پر نظر رکھنے والے سیاسی عناصر پہلے اپنے طرزِ سیاست کا جائزہ لیں، جس جماعت کی بنیاد، ان کے بقول، جمہوری اقدار کی مخالفت پر استوار رہی ہو، وہ پیپلز پارٹی کو عوامی مینڈیٹ اور سیاسی شعور کا درس نہ دے۔ ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ عوام اب سیاسی نعروں اور الزامات کی سیاست سے بخوبی آگاہ ہو چکے ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیے کو مسترد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعور میں اضافے کے بعد اس نوعیت کی سیاست مزید کامیاب نہیں ہو سکے گی۔