ملاکنڈ یونیورسٹی: طالبات کی 4 ہزار نازیبا ویڈیوز کا دعویٰ غلط نکلا
اشاعت کی تاریخ: 11th, April 2025 GMT
ملاکنڈ یونیورسٹی سے متعلق انکوائری کمیٹی نے صوبائی حکومت کو رپورٹ بھیج دی، جس میں کئی اہم انکشافات کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملاکنڈ یونیورسٹی میں طالبات اور اساتذہ کی غیر اخلاقی وڈیوز بنانے کا کوئی گینگ نہیں۔
انکوائری رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ملزم پروفیسر کے موبائل سے غیراخلاقی ویڈیوز نہیں ملیں، طالبات کی 4 ہزار نازیبا وڈیوز کا دعویٰ جھوٹ نکلا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ فروری میں ہونے والے ہراسانی کے واقعے کی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ ملاکنڈ یونیورسٹی کو بدنام کرنے کےلیے چند عناصر نے غیر متعلقہ پوسٹ شیئر کیں۔
انکوائری رپورٹ میں یونیورسٹی کو بدنام کرنے والوں کے خلاف ایف آئی اے سے رجوع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہراسانی کے واقعے میں پروفیسر کو ملاکنڈ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے معطل اور لیویز نے گرفتار کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ملاکنڈ یونیورسٹی رپورٹ میں گیا کہ
پڑھیں:
ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
تہران / واشنگٹن: امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے عراق کے ذریعے امریکا کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق تہران نے واضح کیا ہے کہ عارضی جنگ بندی اس وقت تک قابل قبول نہیں جب تک بنیادی تنازعات، خصوصاً آبنائے ہرمز کے معاملے، کا حل پیش نہ کیا جائے۔
رپورٹ کے مطابق عراقی وزیراعظم علی الزیدی حالیہ دورۂ واشنگٹن کے بعد تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور امریکا کی جانب سے جنگ بندی سے متعلق پیغام پہنچایا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی تجویز کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم ایرانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ مختصر یا عارضی جنگ بندی سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، کیونکہ اس میں آبنائے ہرمز کے کنٹرول اور دیگر اہم معاملات پر کوئی واضح پیش رفت شامل نہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس حوالے سے کہا کہ عراقی وزیراعظم نے واشنگٹن میں ہونے والی ملاقاتوں اور اپنے مشاہدات سے ایران کو آگاہ کیا، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان پہلے ہی مختلف ممالک ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ پیغامات کی ترسیل نہیں بلکہ امریکا کا رویہ ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن کا غیرمنطقی، لالچی اور دوسروں پر کنٹرول قائم کرنے والا طرزِ عمل موجودہ بحران کی بنیادی وجہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران اب بھی اپنے بنیادی مطالبات پر قائم ہے اور کسی ایسے معاہدے پر آمادہ نہیں جو اس کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کرے۔
دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی حکومت نے نیویارک ٹائمز کی اس رپورٹ یا ایران کے مؤقف پر باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا تھا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، قطر، پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک کی ثالثی کی کوششیں بدستور جاری ہیں، تاہم ایران اور امریکا کے درمیان اہم اختلافات برقرار رہنے کے باعث فوری پیش رفت کے امکانات محدود دکھائی دیتے ہیں۔