برطانیہ کے چینی اسٹیل کمپنی پر قبضے کی وجہ کیا بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ہفتے کے روز برطانوی پارلیمان کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جس نے ایک چینی کمپنی پر قبضے کی منظوری دے دی۔
برطانوی شہر اسکنتھوپ میں موجود اس اسٹیل کمپنی کو اس کے چینی مالکان بند کرنا چاہتے تھے تاہم حکومت کو اس سے 2700 کے قریب ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ تھا جس کی وجہ سے دونوں فریقین میں اس حوالے سے مذاکرات جاری تھے۔
یہ بھی پڑھیے: برطانیہ کے ہیتھرو ایئرپورٹ کے قریب آتشزدگی اور پروازیں متاثر ہونے کے واقعے کی تحقیقات کا آغاز
مذاکرات ناکام ہونے پر برطانوی پارلیمان نے اسٹیل بنانے والی اس کمپنی کو حکومتی تحویل میں لینا کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے ایک ہی دن میں قانون سازی کی گئی۔
بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹس کی مطابق یہ اجلاس دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی پارلیمان کا چھٹا ہنگامی اجلاس تھا جس میں چینی کمپنی کو قبضے میں لینے کی منظوری دی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔