محسن نقوی سے برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان کی ملاقات، دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر زور
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان نے ملاقات کی اور پاک برطانیہ تعلقات کے فروغ اور برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کے مسائل کے حل پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی محکمہ خارجہ کے عہدیدار ایرک میئر کی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات
ملاقات میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے برطانیہ کے تعاون کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی۔ دہشتگردی کی حالیہ لہر اور سدباب کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بات چیت کی گئی۔
محسن نقوی نے پاک برطانیہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے مؤثر کردار پر برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے لیبر پارٹی کے سرکردہ رکن و ممبر پارلیمنٹ افضل خان کو برطانیہ میں الیکشن جیتنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ لیبر پارٹی کے دور میں پاک برطانیہ تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے چیلنج کا کئی ممالک کو سامنا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کثیر الجہتی بین الاقوامی حکمت عملی تیار کی جائے اور بلا تاخیر عمل کیا جائے۔
مزید پڑھیے: محسن نقوی کی وزیراعظم سے ملاقات، افغان شہریوں کے انخلا کے عمل سے آگاہ کیا
وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ انسداد دہشتگردی کے لیے پاکستانی اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور ٹریننگ کے لیے برطانوی تعاون کا خیر مقدم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے اور پاکستانی کمیونٹی پاکستان کے ساتھ برطانوی معیشت کی مضبوطی کے لیے بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
لیبر پارٹی کے سرکردہ رکن و ممبر پارلیمنٹ افضل خان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میں پاک برطانیہ تعلقات کی مزید بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہوں گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان پاک برطانیہ تعلقات دہشتگردی وزیر داخلہ پاکستان محسن نقوی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان پاک برطانیہ تعلقات دہشتگردی وزیر داخلہ پاکستان محسن نقوی برطانوی رکن پارلیمنٹ افضل خان پاک برطانیہ تعلقات دہشتگردی کے محسن نقوی نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں