“کرکٹرز نے مجھے اپنی نامناسب تصاویر بھیجیں” بھارتی کوچ کی بیٹی کے انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 18th, April 2025 GMT
نومبر 2024 جنس تبدیل کروا کر لڑکے سے لڑکی بننے والی سابق بھارتی کرکٹر اور کوچ سنجے بانگر کی بیٹی انایا نے انکشافات کا پنڈورا باکس کھول دیا۔
فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر سابق بھارتی کرکٹر اور کوچ سنجے بانگر کی بیٹی انایا (سابقہ نام: اریان) نے دعویٰ کیا ہے کہ کئی کرکٹرز نے انہیں جنس تبدیلی کے بعد اپنی نامناسب تصاویر بھیجی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ میں 8-9 سال کی عمر سے محسوس کرتی تھی کہ میں لڑکی ہوں، ماں کے کپڑے پہن کر آئینے میں خود کو دیکھتی تھی لیکن اپنے والد کے بھارتی کرکٹر اور کوچ ہونے کی وجہ سے اپنے شناخت چھپانی پڑی۔
انایا بانگر نے ہراسانی کے واقعات کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ کچھ کرکٹرز نے مجھے اپنی نامناسب تصاویر بھیجیں، ایک فرد نے مجھے سرِعام گالیاں دیں اور پھر میری تصاویر مانگیں جبکہ ایک سینئر کرکٹر ایسی حرکت کی کوشش کی جو بتانا بھی نہیں چاہتی۔
واضح رہے کہ انایا بانگر اپنی جنس تبدیل کروانے سے قبل بھارت کے نوجوان مشیر خان، سرفراز خان، یشسوی جیسوال جیسے کرکٹرز کیساتھ بھی کھیل چکی ہیں۔
دوسری جانب انایا نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سال 2023 میں خواتین کی کرکٹ میں جنس تبدیل کرکے آنے والے پلئیرز کیخلاف سخت ایکشن لیا تھا اور ان پر پابندی عائد کردی تھی۔
یاد رہے کہ 22 سال تک ایک لڑکے کی حیثیت سے پلنے بڑھنے اور تعلیم حاصل کرنے والے آریان نے 2023 میں ہارمون تھراپی کروانا شروع کیں اور 11 ماہ بعد ٹرانس جینڈر لڑکی بن گئیں۔
View this post on InstagramA post shared by Anaya Bangar (@anayabangar)
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
بھارتی غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج، نیم فوجی دستوں اور پولیس نے کریک ڈاؤن مزید سخت کرتے ہوئے وادی کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز ، گھروں پر چھاپوں اور شہریوں کی تلاشی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوج، نیم فوجی فورسز اور پولیس اہلکاروں نے سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بڈگام، بارہمولہ، بانڈی پورہ، گاندربل، پلوامہ، کولگام، شوپیاں اور سوپور میں حریت رہنماؤں اور کارکنوں کے گھروں پر تلاشی کی کارروائیاں کیں۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے مختلف علاقوں میں شہریوں کی جامہ تلاشی لینے کے ساتھ ساتھ اضافی چیک پوسٹس بھی قائم کر دی ہیں۔
یہ سخت سیکیورٹی اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ایک روز قبل بھارتی فورسز نے مقبوضہ کشمیر بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپوں کے دوران 2 رہائشی مکانات مسمار کیے تھے اور تقریباً 3 ہزار 500 کشمیریوں کو گرفتار کیا تھا۔
بھارتی پولیس نے گرفتار افراد کو مبینہ طور پر اوور گراؤنڈ ورکرز قرار دیا ہے، جبکہ انہیں مختلف حراستی مراکز میں منتقل کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران بھارتی اہلکاروں نے متعدد علاقوں میں اہلِ خانہ کو ہراساں کیا، گھریلو سامان کو نقصان پہنچایا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لوگوں اور گاڑیوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ اہم شاہراہوں، مرکزی سڑکوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر اضافی چیک پوسٹس قائم کر دی گئی ہیں۔
بھارتی فوجی گاڑیوں کی مکمل تلاشی لے رہے ہیں، جن میں کاروں کے ڈِگی، موٹر سائیکلیں اور دیگر دو پہیہ گاڑیاں بھی شامل ہیں، جبکہ راہ گیروں کی جامہ تلاشی خصوصاً سرینگر، اسلام آباد (اننت ناگ)، بارہمولہ، بڈگام، پلوامہ، کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سخت کر دی گئی ہے۔
سی آر پی ایف سرینگر سیکٹر کے ترجمان نے بتایا کہ پوری وادی میں سیکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، نگرانی کا نظام مزید سخت کیا گیا ہے، چیک پوسٹس میں اضافہ کیا گیا ہے اور سرچ آپریشنز کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سرینگر پولیس کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ وادی بھر میں مربوط چھاپہ مار کارروائیاں، تلاشی مہم اور سیکیورٹی آپریشن بدستور جاری ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر