جدید زراعت کے حصول علم کے لیے چین کا سفر
اشاعت کی تاریخ: 19th, April 2025 GMT
قربان جاؤں میں اپنے آقا نبی اکرم آخرالزماںؐ پر۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم بیان کر رہا ہوں جو کچھ اس طرح سے ہے کہ’’ علم حاصل کرو، چاہے چین جانا پڑے۔‘‘ 300 جوان زراعت کی اعلیٰ ٹیکنالوجی کی تعلیم کے حصول کے لیے چین چلے گئے ہیں، مزید 700 جلد ہی رخت سفر باندھ لیں گے۔
ساڑھے چودہ سو سال بعد وہی پیغام ان نوجوانوں،کاشتکاروں کا شغف رکھنے والوں کے لیے زرعی ٹیکنالوجی، جدید مشینی زراعت، ڈیجیٹل فارمنگ کا علم اب روایتی علوم کے حصول کے علاوہ حدیث مبارکہ کی روشنی میں یہ نوجوان ایسے ملک میں جا پہنچے ہیں جو اب زرعی ترقی کی روشن مثال ہے اور آج ہمارے نوجوانوں اور زرعی کاشتکاروں کے لیے ایک نئی درسگاہ بن چکی ہے اور یہی نوجوان جب زرعی علوم و فنون و ٹیکنالوجی سے تربیت یافتہ ہو کر جدید زرعی علوم کی پیاس بجھا کر واپس آئیں گے تو زرعی انقلاب کے لیے متحرک ہو جائیں گے۔ اس طرح یہ جوان اپنے کھیتوں کے مستقبل کو ہی نہیں سنوارے گا بلکہ اپنی قوم کے مستقبل کو بھی زرخیز بنائے گا۔ زمین پر جب اناج کے ڈھیر لگیں گے، بھوک پیاس، افلاس، غربت مکاؤ کے لیے ان کی یہ کاوشیں رنگ لے آئیں گی۔ صرف اپنے ملک کے لیے نہیں بلکہ دنیا کو ایکسپورٹ کرنے کے لیے بھی زراعت کو جب ترقی دے لیں گے تو اسی کو فلاح انسانیت کا نام دیا جاتا ہے۔
لیکن یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میں لاکھوں نوجوان کسی نہ کسی شکل میں زراعت سے وابستہ ہیں۔ زمین پر ہل چلانے کے عمل سے لے کر دودھ دوہنے کے عمل تک، ان کاموں کے کرنے کے لیے اگر نوجوان جدید ٹیکنالوجی، جدید سائنسی علوم، ڈرون ٹیکنالوجی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈیجیٹل ایپلی کیشنز سے استفادہ کرکے پانی کے استعمال کو کم سے کم اور پیداوار زیادہ سے زیادہ حاصل کر لیتا ہے تو زراعت کا حصہ جی ڈی پی میں ڈبل بھی کر سکتا ہے۔
یعنی 40 فی صد پر پہنچ کر کھربوں روپے میں ٹیکس بھی حاصل ہو جائے گا۔ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ مختلف جائزوں کے مطابق کسی نے 65 لاکھ کہا، کسی نے 50 لاکھ سے زائد کہ اتنی بڑی تعداد میں نوجوان زراعت سے وابستہ ہیں۔ چلیے 50 لاکھ نوجوان مان لیتے ہیں تو ان کا دس فی صد 5 لاکھ بنتے ہیں حکومت کے پاس اتنے وسائل بھی نہیں ہوں گے لیکن حکومت کم ازکم ہر سال 50 ہزار سے زائد نوجوان کسان، زراعت سے منسلک، دودھ کی پیداوار، جانوروں کی افزائش سے منسلک افراد کے بیرون ملک مثلاً امریکا، آسٹریلیا، کینیڈا اور ڈنمارک اور دیگر صنعتی اور زرعی ترقی میں نامور ممالک کے ساتھ رابطہ کرے، معاہدہ کرے کہ ہمارے نوجوانوں کو زرعی ترقی، صنعتی ترقی کی تعلیم کے علاوہ دیگر شعبوں میں اور صنعتوں میں تربیت سے لیس کر کے واپس پاکستان بھجوایا جائے تو ایسی صورت میں کہیں زمین کی ہریالی سے فصلیں لہلہائیں گی تو ان فصلوں کو مشینوں کے کام لایا جاسکتا ہے۔
اس کے لیے ہمارے بے روزگار نوجوانوں کو اعلیٰ فنی صنعتی تعلیم سے لیس کرنے کے لیے بھی دیگر ترقی یافتہ ممالک جن میں یورپ کے کئی ممالک سرفہرست ہیں، ان سے معاہدے کیے جائیں۔ ہمارے بے روزگار نوجوانوں کو وہاں پر فنی تعلیم کے حصول، جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے روانہ کیا جائے کیونکہ ایک طرف اگر تقریباً ہزاروں نوجوان زرعی ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر آ جاتے ہیں اور زمین کی ہریالی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں تو دوسری طرف انھی زرعی فصلوں کو سمیٹ کر زراعت پر مبنی صنعتوں کے پہیوں کی روانی بخشنے والے بھی منتظر ہوں گے۔ کیونکہ شاہراہ ترقی کا یہ سفر، فریقین مل کر ہم سفر جب بن جائیں گے تو پھر ملاحظہ فرمائیے ہوتا کیا ہے۔
کیونکہ جب ہریالی اگانے والے آجائیں گے، کھیتوں میں زرخیزی پیدا کرکے فصلوں کو بہار دینے والے، چین و دیگر ملکوں سے فنی زرعی تعلیم و تربیت سے لیس ہو کر آجائیں گے تو پھر ضرورت ہوگی کہ ان فصلوں سے، اس پیداوار سے فیکٹریاں چلائی جائیں، ملوں کے پہیوں کو رواں دواں کیا جائے تاکہ روزگار کے دیے جلتے رہیں اور بے روزگار برسر روزگار ہوتے رہیں۔
زمین جب زرخیز ہوتی ہے تو اس کی پیداوار سے فیکٹریاں چلتی ہیں اور آج کل صرف انھی فیکٹریوں کا مال ایکسپورٹ ہوتا ہے جو جدید ترین اعلیٰ ترین صنعتی ٹیکنالوجی سے مزید ہوں، جہاں وہ ہاتھ کام کر رہے ہوں جوکہ اعلیٰ ترین ترقی یافتہ صنعتی ممالک سے جدید ٹیکنالوجی اور جدید علوم و فنون سے تربیت پا کر ملک لوٹے ہوں۔
آج کا پاکستان اور اس کے بے شمار مسائل کے حل کے لیے ہمیں انھی باتوں میں حل تلاش کرنا ہوگا کہ ہم فریقین میں نوجوانوں میں ایسی ہم آہنگی پیدا کردیں کہ ایک طرف جدید زرعی علوم سے تربیت یافتہ نوجوان کھیتوں میں ٹیکنالوجی سے ہریالی لے کر آئے اور دوسری طرف جدید صنعتی علوم و فنون و ٹیکنالوجی سے لیس نوجوان اس خام مال کو فیکٹریوں میں سمیٹے تاکہ ان سے روزگار کے دیے سے دیا جلتا رہے۔ ایکسپورٹ کے لیے جہاز بھر بھر کر لادے جا رہے ہوں، ملک میں بیرون ملک سے تاجر آ رہے ہوں، کروڑوں، اربوں روپے کے سودے طے ہو رہے ہوں، کیونکہ زمین کی ہریالی سے جب فیکٹری کا پہیہ تیزی سے گھومتا ہے تو بے روزگاروں کی تمام تر کھیپ برسر روزگار ہو جاتی ہے۔ اسی کو کہتے ہیں ملک شاہراہ ترقی پرگامزن ہو چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹیکنالوجی سے بے روزگار جائیں گے کے حصول رہے ہوں کے لیے سے لیس
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔