امیر جماعت اسلامی کی اپیل پر جمعة المبارک اسرائیل، بھارت کے خلاف یوم مذمت کے طور پر منایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مودی حکومت کے مظالم کو روکنے کے لیے آواز بلند کرے، اہل کشمیر و فلسطین گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے قابض افواج کے مظالم برداشت کر رہے ہیں، ہر باضمیر انسان کو مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے، دنیا میں قیام امن کے لیے اسرائیل، بھارت اور امریکی مظالم کو روکنا ہو گا۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر جمعۃ المبارک اسرائیل اور بھارت کے خلاف یوم مذمت کے طور پر منایا گیا، ملک بھر میں اہل فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے حق میں خصوصی دعائیں کی گئیں، قوم نے اسرائیل اور بھارتی عزائم کی مذمت کی۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی مساجد میں خطبات جمعہ کے دوران علما اور آئمہ کرام نے اسرائیلی افواج کی غزہ میں ڈیڑھ برس سے جاری سفاکیت کی پرزور مذمت کی اور مسئلہ فلسطین کے حوالے سے قوم کو آگاہ کیا، اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے لیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں۔
مقررین نے بھارت کی مقبوضہ وادی میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مودی حکومت کے مظالم کو روکنے کے لیے آواز بلند کرے۔ اہل کشمیر و فلسطین گزشتہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ سے قابض افواج کے مظالم برداشت کر رہے ہیں، ہر باضمیر انسان کو مظلوموں کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے، دنیا میں قیام امن کے لیے اسرائیل، بھارت اور امریکی مظالم کو روکنا ہوگا۔
منصورہ کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے لیے بڑی تعداد میں موجود افراد نے فلسطینیوں اور کشمیریوں کے لیے دعا کی۔ اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام نے اسرائیل اور بھارت کے خلاف نعرے بازی کی۔ جماعت اسلامی کے قائدین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پوری قوم اہل غزہ کے ساتھ ہے اور بھارتی عزائم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی طرح ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔