پولیس نے نیشنل ہائی وے لنک روڈ پر پانچ روز سے جاری دھرنا ختم کرادیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
کراچی میں نیشنل ہائی وے لنک روڈ پر پانچ روز سے جاری دھرنا آج اختتام پذیر ہو گیا۔ پولیس کی بھاری نفری نے مظاہرین کے لگائے گئے ٹینٹ ہٹا دیے اور رکاوٹیں بھی صاف کر دیں۔ قوم پرست جماعت کے کارکنوں نے پولیس کی کارروائی پر شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔
پولیس نے ٹھٹھہ سے کراچی جانے والی شاہراہ سے رکاوٹیں ہٹانا شروع کر دی ہیں، جس کے باعث اس راستے پر ٹریفک کی روانی بحال ہو گئی ہے۔ پولیس کی بھاری نفری نے گلشن حدید لنک روڈ کے اطراف میں موجود رہی اور امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کیے۔
پانچ روز بعد، گلشن حدید لنک روڈ کو عام ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، اور اس فیصلے کے بعد شہریوں کو راستوں کی بندش سے نجات مل گئی۔ تاہم، دھرنے کے دوران شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لنک روڈ
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔