ترنول میں پولیس پر فائرنگ کرنے والے ملزمان زخمی حالت میں گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
اسلام آباد کے تھانہ ترنول کی حدود میں ملزمان کی پولیس پر فائرنگ کر کے فرار ہونے والے ملزمان زخمی حالت میں گرفتار۔
اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق کے ملزمان علاقہ تھانہ گولڑہ میں سنیچنگ کی واردات کرکے ترنول کی طرف بھاگ رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں:نوکری کا جھانسہ دیکر شہری کو قتل کرنے والے 4 ملزمان گرفتار: اسلام آباد پولیس
پولیس رات گئے تھانہ ترنول کے حدود میں معمول کی چیکنگ پر مامور تھی، اس دوران پولیس نے 2 مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو روکنے کا اشارہ کیا۔
پولیس کو دیکھتے ہی موٹرسائیکل سواروں نے اچانک اندھا دھند فائرنگ شروع کردی۔ تھانہ ترنول پولیس نے کمال بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 2 ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا۔
پولیس کے ترجمان کے مطابق احتیاطی تدابیر کی بدولت پولیس جوان محفوظ رہے۔
گرفتار ملزمان میں زبیر شاہ اور سمیع اللہ شامل ہیں۔ جب کہ ان ساتھی ملزمان کی گرفتاری کے لئے پولیس چھاپے مار رہی ہے۔
گرفتار ملزمان کے قبضے سے 2 تیس بور پسٹل، ایک موٹرسائیکل بھی برآمد کرلیے گئے۔ گرفتار ملزمان کے خلاف اسلام آباد میں سنگین جرائم کے 14 مقدمات درج ہیں۔
ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق نے پولیس ٹیم کی بہادری پر شاباش دی اور انعامات کا اعلان کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسلام آباد پولیس تھانہ ترنول تھانہ گولڑہ ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد پولیس تھانہ ترنول ڈی آئی جی اسلام آباد محمد جواد طارق تھانہ ترنول اسلام آباد
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔