خواجہ سعد رفیق کا بھارت سے پانی کیساتھ ٹراٹ مچھلی بھی چھوڑنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, April 2025 GMT
خواجہ سعد رفیق کا بھارت سے پانی کیساتھ ٹراٹ مچھلی بھی چھوڑنے کا مطالبہ WhatsAppFacebookTwitter 0 27 April, 2025 سب نیوز
لاہور (سب نیوز)پاکستان مسلم لیگ (ن)کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے بھارت سے پانی چھوڑنے کے ساتھ ٹراٹ مچھلی بھی چھوڑنے کا مطالبہ کردیا۔
سوشل میڈیا پر انہوں نے ایک دلچسپ بیان جاری کیا اور کہا کہ جہلم کے سیلابی پانی کے ساتھ اگر تازہ ٹراٹ مچھلی اسی طرح اور اتنی مقدار میں پاکستان آتی رہیں تو ہمیں اعتراض نہیں۔خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آپ ہمیں تنگ کرنے کیلئے اسی طرح اصلی اور نسلی مچھلی سمیت پانی چھوڑتے رہیں، کوئی بات نہیں، پڑوسیوں کے بڑے حقوق ہوتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیف جسٹس کا دورہ چین، ترکیہ، سپریم کورٹ کے ڈیجیٹلائزیشن اور کیس مینجمنٹ کوعالمی سطح پر سراہا گیا چیف جسٹس کا دورہ چین، ترکیہ، سپریم کورٹ کے ڈیجیٹلائزیشن اور کیس مینجمنٹ کوعالمی سطح پر سراہا گیا وزیرخارجہ اسحاق ڈار کا برطانوی ہم منصب سے رابطہ، بھارت کے پروپیگنڈے اور یکطرفہ اقدامات سے آگاہ کردیا وزیراعلی پنجاب مریم نوازکا لاہور سے راولپنڈی تک پاکستان کی پہلی تیز ترین بلٹ ٹرین چلانے کا فیصلہ ، عملدرآمد کیلئے ورکنگ گروپ تشکیل پاکستانیوں کو بھارت چھوڑنے کی دی گئی مہلت ختم، واپس آنے والے پاکستانیوں کے اعداد وشمار جاری تنازع کسی بھی صورت بھارت اور پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے، چینی وزیر خارجہ پاکستانی قوم وطن کی جانب اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے، زاہد بشیر ڈارCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: خواجہ سعد رفیق
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔