SRINAGAR:

مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے پہلگام میں فالس فلیگ کے پیچھے چھپا بھارت کا دہشت گرد چہرہ بے نقاب ہوگیا اور مقبوضہ علاقے میں کشمیریوں کے گھر تباہ کیے جا رہے ہیں۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے مزید 5 کشمیریوں کے گھر تباہ کر دیے ہیں اور ان مکانات کو دھماکا خیز مواد لگا کر اڑایا گیا۔

ذرائع کے مطابق تباہ کیے گئے مکانات عام کشمیری لوگوں کے تھے اور یہ گھر عامر نذیر وانی، جمیل احمد، عدنان صفی ڈار، عامر احمد اور فاروق احمد کے والدین کے تھے، دھماکوں سے درجنوں قریبی مکانات کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔

اس حوالے سے ذرائع نے مزید بتایا کہ گزشتہ 3 دن میں 7  کشمیریوں کے آبائی گھروں کو تباہ کر دیا گیا ہے، بھارتی فوج کی ناپاک کارروائی سے کئی خاندان بے گھر اور شدید پریشانی میں مبتلا ہیں،۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کا مقصد کشمیریوں کے عزم کو توڑنا اور اجتماعی سزا دینا ہے، بھارت کشمیری مسلمانوں کی زمین ہتھیانے کے لیے اسرائیلی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے اور بھارت کشمیریوں کے گھروں کو مسمار کر کے انہیں بے گھر کر رہا ہے۔

ترجمان کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا کہ یہ مہم مودی حکومت کے ہندوتوا ایجنڈے کا حصہ ہے، بھارت کا مقصد کشمیری عوام کو بے گھر اور بے دخل کرنا اور علاقے کے مسلم اکثریتی تشخص کو تبدیل کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کے کشمیریوں پر ظلم کے باوجود مقبوضہ جموں کشمیر کے عوام بھارت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، کشمیری عوام اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔

ترجمان کل جماعتی حریت کانفرنس کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیریوں پر ظلم اور ہندوؤں کو ڈومیسائل جاری کررہا ہے، مقبوضہ کشمیر کو ہندو ریاست میں تبدیل کرنا مودی کی سازش ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کشمیریوں کے گھر

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار