اداکارہ زینت امان اسپتال میں داخل، اب حالت کیسی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
بالی ووڈ کی سینئر اداکارہ زینت امان نے اسپتال سے اپنی تصاویر شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کیا ہے۔
ورسٹائل اداکارہ زینت امان نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ ایک طبی عمل کے بعد اسپتال کے ’ریکوری روم‘ میں ہیں اور تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہیں۔
73 سالہ اداکارہ نے انسٹاگرام پر اسپتال سے کچھ تصاویر شیئر کیں، جن میں ایک تصویر میں وہ اپنی ایک آنکھ کو ڈھانپے نظر آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک طویل عرصے سے ان کی سوشل میڈیا پر غیر فعال رہنے کی وجہ ان کی طبی مصروفیات تھیں، تاہم انہوں نے اسپتال میں داخل ہونے اور طبی عمل سے متعلق تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔
View this post on InstagramA post shared by Zeenat Aman (@thezeenataman)
سینئر اداکارہ نے لکھا کہ اسپتال کے سرد ماحول نے انہیں دوبارہ زندگی کے معنی یاد دلا دیے ہیں، اور اب وہ ایک مرتبہ پھر باقاعدگی سے انسٹاگرام پر اپنی کہانیاں، فیشن، ذاتی یادیں اور خیالات بانٹنی رہیں گی۔
یاد رہے کہ ماضی کی مقبول اداکارہ زینت امان ’ہرے راما ہرے کرشنا‘، ’ڈان‘ اور ’ستیم شیوم سندرم‘ جیسی فلموں کیلئے جانی جاتی ہیں۔ زینت امان جلد ہی نیٹ فلکس کی سیریز ’The Royals‘ میں نظر آئیں گی، جو 9 مئی 2025 کو ریلیز ہو رہی ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Netflix India (@netflix_in)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اداکارہ زینت امان
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔