پنجاب حکومت کا 12ہزار رابطہ سڑکوں کی تعمیروبحالی کا سب سے بڑا پروگرام شروع کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 28 اپریل 2025ء ) پنجاب میں تاریخ کا رابطہ سڑ کوں کی بحالی کا سب بڑا پروگرام کامیابی سے جاری ہے۔ جس کے تحت 12ہزار کلومیٹر روڈز کی تعمیر ومرمت اورر بحالی وتوسیع کی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں سیکرٹری سی اینڈ ڈبلیو نے ہر ڈویژن اور ڈسٹرکٹ کے روڈ پراجیکٹ کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس میں اگلے مالی سال میں انٹر ڈسٹرکٹ اور انٹر ویلج روڈ کی تعمیر و بحالی کی تجویز لیا گیا۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے عوام کی ضرورت اور استعمال کو مد نظر رکھتے ہوئے روڈز پراجیکٹ کی ترجیحات مقرر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ روڈز سائیڈ کو تجاوزات سے پاک کرنے کرنے کے لئے بائی لاز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔(جاری ہے)
اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 460روڈ کی تعمیر و توسیع اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ قائد اعظم انٹر چینج تا واہگہ باڈر روڑ کی تعمیر مکمل کر لیا گیا اور ڈرین اور وال کی تعمیر جاری ہے۔ ملتان وہاڑی دو رویہ روڈ پراجیکٹ کی ایکنک نے منظوری دے دی جبکہ ایڈیشنل کیرج وے کی تعمیر جاری ہے۔ مری میں روڈز کی تعمیر و بحالی کے تمام پراجیکٹ مکمل کر لیا گیا۔ کرتار پور راہداری پراجیکٹ میں شکر گڑھ روڈ مکمل، مریدکے نارووال روڈز کی تعمیر جاری ہے۔ اجلاس میں روڈز کی عمومی چوڑائی12-فٹ رکھنے کی تجویز پر اتفاق رائے قائم کیا گیا۔ شہروں اور دیہات میں یکساں طرز کی ٹف ٹائل لگانے کی ہدایت کی گئی۔ اجلاس میں لاہور رنگ روڈ سدرن لوپ ساڑھے 18 کلومیٹر روڈ پراجیکٹ کا جائزہ لیا گیا۔ لیہ بھکر کو موٹروے سے منسلک کرنے کے لئے ایکسپریس وے پراجیکٹ کے لئے فیزیبلٹی سٹڈی رپورٹ طلب کرلی گئی جبکہ کھاریاں راولپنڈی ایکسپریس روڈ پراجیکٹ پر غور کیا گیا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے روڈ پراجیکٹ اجلاس میں کی تعمیر جاری ہے روڈز کی لیا گیا
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :