وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تصادم کا امکان کم ہوا ہے لیکن ہندوستان ابھی بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہے، اور ہم کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھارت تحقیقات کی پیشکش اس لیے قبول نہیں کررہا، کیوں کہ اسے خطرہ ہے کہ اندر سے کچھ اور نہ نکل آئے۔

یہ بھی پڑھیں ہم تیار ہیں، آزمانا نہیں، ترجمان پاک فوج لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف

خواجہ آصف نے کہاکہ ہماری پیشکش ہے کہ پہلگام واقعہ کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کمیشن تشکیل دے، یا دو تین ملک مل کر اس کی تحقیقات کرلیں۔

وزیر دفاع نے کہاکہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کے امکان کو کسی بھی طرح کے حالات میں خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت ساری دنیا کہہ رہی ہے کہ بات چیت سے معاملہ حل ہونا چاہیے، مارکو روبیو کے رابطہ کرنے کی اپنی ایک اہمیت ہے انہوں نے متوازن بات کی ہے۔

انہوں نے کہاکہ بھارت نے پہلگام واقعہ کے چند منٹ بعد ایف آئی آر درج کردی، اور بھارت کے اندر ہی اس پر سوال اٹھ رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ آصف نے کہاکہ قومی سلامتی کمیٹی کے مشیر کی تقرری کا مذاکرات کے معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ جنگ کا اندیشہ رکھنا یا نہ رکھنا کوئی آپشن نہیں، ہمیں ہر وقت تیار رہنا چاہیے۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں سیاحوں پر حملے کے بعد پاکستان اور بھارت آمنے سامنے ہیں۔

بھارت نے یکطرفہ طور پر پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پاکستان نے کہا ہے کہ اگر ہمارا پانی بند کیا تو جنگ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں ’بھارتی فوجی مہم جوئی کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا‘ آرمی چیف اگلے مورچوں پر پہنچ گئے

گزشتہ روز فوجی ترجمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ بھارت نے اگر پاکستان پر حملہ کیا تو پھر یہ ہماری چوائس ہوگی کہ اس کے بعد کیا کرنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارتی بوکھلاہٹ پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ خواجہ آصف وزیر دفاع وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی بوکھلاہٹ پاک بھارت کشیدگی پاکستان بھارت جنگ خواجہ ا صف وزیر دفاع وی نیوز خواجہ آصف وزیر دفاع انہوں نے نے کہاکہ کے لیے

پڑھیں:

دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس  ہوا جس دوران  دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ  ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔

کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔

وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات

مزید :

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار