پنجاب زکوة و عشر کونسل کا ضلعی و مقامی زکوٰۃ کمیٹیاں جلد فعال کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
کلیم اختر: پنجاب زکوة و عشر کونسل کا ضلعی و مقامی زکوٰۃ کمیٹیوں کو جلد فعال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق عیدالاضحی سے قبل مستحقین میں رقوم کی تقسیم کیلئے کمیٹیاں جلد فعال کی جائیں گی،زکوۃ کمیٹیوں کی تشکیل نو کا کام جلد مکمل کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا،صوبائی سطح پرتعلیمی وظائف ،ہیلتھ کیئر کیلئے بھی زکوة کی رقوم تقسیم کی جائے گی،زکوة پیڈ سٹاف کو درپیش مسائل، ملازمت کی نوعیت ذیلی کمیٹی کے سپرد کردیا،تنخواہوں اور دیگر مراعات بارے مسائل کا حل بھی ذیلی کمیٹی کے سپرد کردیا۔
دبئی پاورلفٹنگ اینڈ باڈی بلڈنگ انٹرنیشنل چیمپئن شپ: پاکستان نے گولڈ میڈل حاصل کرلیا
ذیلی کمیٹی تمام تر مسائل پر مکمل چانچ پڑتال کر کے سفارشات مرتب کرے گی،مستحق طلبہ و طالبات کی سہولیات کیلئے ای بائیکس بھی فراہم کی جائیں گی،کونسل کی جانب سے شادی گرانٹ کی رقم 1لاکھ سے کم کر 50 ہزار کر دی گئی،مستحق افراد میں زکوة کی رقوم جاز کیش ،جاز والٹ کی مدد سے تقسیم کی جائیں گی۔
چیئرمین زکوۃ و عشر کونسل کازکوة کی رقوم کی تقسیم کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔
زکوة رقوم میں خیانت کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لانے کا عندیہ دے دیا۔
ایف سی انڈرپاس کے قریب تیز رفتار رکشہ اُلٹنے سے5افراد زخمی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔