بھارتی فضائیہ میں بڑی تعداد میں پائلٹس کی ہلاکتیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
اسلام آباد:
گزشتہ 30 برسوں میں بھارتی فضائیہ کو 550 سے زائد فضائی حادثات کا سامنا کرنا پڑا جن میں 150 سے زائد پائلٹس جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
بھارتی فضائیہ میں مسلسل پیش آنے والے حادثات اس کے ناقص حفاظتی معیار اور غیر پیشہ ورانہ آپریشنل تیاریوں کی واضح مثال ہیں۔
ذرائع کے مطابق بھارتی فضائیہ میں روزمرہ کے حادثات میں ہلاک ہونے والے پائلٹس کی تعداد کارگل جنگ میں ہونے والی ہلاکتوں سے 30 گنا زیادہ ہے۔ ان ہلاکتوں کی بنیادی وجوہات میں انسانی غلطیاں، تکنیکی خرابیاں، حادثات اور غیر معیاری تربیت شامل ہیں۔
تازہ ترین واقعات میں 2 اپریل 2025 کو بھارتی فضائیہ کا جیگوار طیارہ جام نگر میں رات کی تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا، جس میں پائلٹ لیفٹیننٹ سدھارتھ یادو ہلاک ہو گیا۔ اسی طرح مارچ 2025 میں ایک ہی دن میں دو لڑاکا طیارے، جن میں ایک جیگوار بھی شامل تھا، گر کر تباہ ہوئے۔
اس سے قبل نومبر 2024 میں MiG-29 طیارہ آگرہ، اتر پردیش کے قریب گر کر تباہ ہوا۔ جنوری 2023 میں مدھیا پردیش میں ایس یو تھرٹی اور میراج ٹو تھاؤزنڈ طیارے آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوئے۔ 8 دسمبر 2021 کو ایک ہیلی کاپٹر کریش میں جنرل بپن راوت سمیت 13 افسران ہلاک ہو گئے۔
بھارتی فضائیہ میں مگ 21 طیارے اپنی خرابیوں کی وجہ سے "وڈو میکر" اور "فلائنگ کفن" کے ناموں سے بھی مشہور ہیں۔ 2019 میں پاکستانی فضائی حدود میں مار گرایا جانے والا طیارہ بھی مگ 21 بائسن تھا، جسے بھارتی پائلٹ ابھی نندن اڑا رہا تھا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ان طیارہ حادثات نے بھارتی فضائیہ کی آپریشنل تیاریوں اور حفاظتی نظام پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی ناقص پالیسیوں نے بھارت کے دفاعی نظام کو کھوکھلا کر دیا ہے، اور ان کی جانب سے دفاعی بہتری کے دعوے زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی فضائیہ میں کر تباہ
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔