وفاق سے پیسے نہ ملے تو بجٹ پیش نہیں کر سکیں گے، وزیر خزانہ جی بی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, May 2025 GMT
مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلے سال ترقیاتی بجٹ کی مد میں صرف بیس ارب روپے ملے تھے جو ختم ہو گئے، اب ترقیاتی منصوبوں کیلئے تیس ارب روپے درکار ہیں، پیسے نہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان نامکمل منصوبوں کا قبرستان بن گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صوبائی وزیر خزانہ گلگت بلتستان انجینئر محمد اسماعیل نے کہا ہے کہ وفاق نے پیسے نہ دیئے تو بجٹ پیش نہیں کر سکیں گے، ہم پیسے مانگنے اسلام آباد آئے ہیں، پیسے نہ ملے تو بجٹ ہی پیش نہیں کر سکیں گے۔ مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلے سال ترقیاتی بجٹ کی مد میں صرف بیس ارب روپے ملے تھے جو ختم ہو گئے، اب ترقیاتی منصوبوں کیلئے تیس ارب روپے درکار ہیں، پیسے نہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان نامکمل منصوبوں کا قبرستان بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزارت خزانہ میں جا رہے ہیں، ہم نے تیس ارب روپے مانگنے ہیں، پیسے نہ ہونے کی وجہ سے نظام درہم برہم ہو رہا ہے، دس ہزار نئی آسامیاں چاہیں خطے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے، مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں، بتایا جائے کہ پیسے نہیں ہونگے تو یہ سارے کام کیسے ہونگے؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی وجہ سے ارب روپے پیسے نہ نے کہا
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔