سندھ طاس معاہدہ معطلی ، پاکستان کا بھارت کو نوٹس دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
سفارتی ذرائع سے نوٹس میں معاہدے کی معطلی کی ٹھوس وجوہات طلب کی جائیں گی
وزارت خارجہ، وزارت آبی وسائل اور وزارت قانون کا ابتدائی ہوم ورک مکمل کر لیا
پاکستان نے بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر نوٹس دینے کا فیصلہ کر لیا۔انڈس واٹر کمیشن کے ذرائع کے مطابق سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر قانونی و آئینی مشاورت کے بعد وزارت خارجہ، وزارت آبی وسائل اور وزارت قانون نے ابتدائی ہوم ورک کر لیا، سفارتی ذرائع سے نوٹس میں معاہدے کی معطلی کی ٹھوس وجوہات طلب کی جائیں گی۔سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے خلاف عالمی فورمز پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کروانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ، بھارت کی آبی جارحیت کو موثر انداز میں دنیا کے سامنے لایا جائے گا، اس اقدام کا مقصد پاکستان کے موقف کو قانونی اور اخلاقی جواز دینا ہے ۔پاکستان سندھ طاس معاہدے پر قانونی سبقت رکھتا ہے ، امید ہے کہ بھارت کو جلد اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنا پڑے گی، تمام اقدامات حکومت و کابینہ کی منظوری کے بعد کئے جائیں گے ۔واضح رہے کہ پاکستان نے کبھی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی ، پاکستان ہمیشہ عالمی قوانین کی پاسداری کرتا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے کی معاہدے کی معطلی
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔