سندھ طاس معاہدہ معطلی ، پاکستان کا بھارت کو نوٹس دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
سفارتی ذرائع سے نوٹس میں معاہدے کی معطلی کی ٹھوس وجوہات طلب کی جائیں گی
وزارت خارجہ، وزارت آبی وسائل اور وزارت قانون کا ابتدائی ہوم ورک مکمل کر لیا
پاکستان نے بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر نوٹس دینے کا فیصلہ کر لیا۔انڈس واٹر کمیشن کے ذرائع کے مطابق سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر قانونی و آئینی مشاورت کے بعد وزارت خارجہ، وزارت آبی وسائل اور وزارت قانون نے ابتدائی ہوم ورک کر لیا، سفارتی ذرائع سے نوٹس میں معاہدے کی معطلی کی ٹھوس وجوہات طلب کی جائیں گی۔سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے خلاف عالمی فورمز پر بھرپور احتجاج ریکارڈ کروانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے ، بھارت کی آبی جارحیت کو موثر انداز میں دنیا کے سامنے لایا جائے گا، اس اقدام کا مقصد پاکستان کے موقف کو قانونی اور اخلاقی جواز دینا ہے ۔پاکستان سندھ طاس معاہدے پر قانونی سبقت رکھتا ہے ، امید ہے کہ بھارت کو جلد اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنا پڑے گی، تمام اقدامات حکومت و کابینہ کی منظوری کے بعد کئے جائیں گے ۔واضح رہے کہ پاکستان نے کبھی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کی ، پاکستان ہمیشہ عالمی قوانین کی پاسداری کرتا ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے کی معاہدے کی معطلی
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔