شاہ رخ خان دنیا کے چوتھے امیر ترین اداکار بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
شاہ رخ خان، جو بھارت میں ’بادشاہ‘ اور دنیا بھر میں ’کنگ آف رومانس‘ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں، اب صرف دلوں کے نہیں بلکہ دولت کے بھی بادشاہ بن چکے ہیں۔
عالمی شہرت یافتہ میگزین اسکوائر کی تازہ رپورٹ کے مطابق، شاہ رخ خان کو 2025 کے دنیا کے دس امیر ترین اداکاروں کی فہرست میں چوتھا مقام حاصل ہوا ہے۔ ان کی مجموعی دولت کا تخمینہ 87 کروڑ 65 لاکھ امریکی ڈالر یعنی تقریباً 8 ارب 76 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فہرست میں شاہ رخ نے صرف بالی ووڈ کے ہی نہیں، بلکہ ہالی ووڈ کے کئی معروف اور مقبول چہروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ بریڈ پٹ، جیکی چن، جارج کلونی، ٹام ہینکس اور رابرٹ ڈی نیرو جیسے عالمی سطح کے ستارے اس دوڑ میں شاہ رخ سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق آرنلڈ شیوارزنیگر 1.
میگزین اسکوائر کی رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ شاہ رخ خان کی دولت میں پچھلے پانچ برسوں کے دوران حیران کن طور پر 46 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 2020 میں ان کی دولت 60 کروڑ ڈالر تھی، جو 2025 میں 80 کروڑ 76 لاکھ ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اضافہ محض فلمی کمائی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ان کی بزنس اسٹریٹجی، سرمایہ کاری اور برانڈ ویلیو کا ثبوت ہے۔
شاہ رخ کی حالیہ کامیابیوں میں 2023 کی بلاک بسٹر فلمیں ’پٹھان‘ اور ’جوان‘ بھی شامل ہیں جنہوں نے باکس آفس پر ریکارڈ توڑ کامیابیاں سمیٹیں اور کنگ خان کو نہ صرف اداکاری کے میدان میں بلکہ مالی میدان میں بھی بلند مقام پر پہنچا دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شاہ رخ خان کے ساتھ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔