لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 مئی2025ء) صوبائی وزیر محکمہ صحت و ایمرجنسی سروسز پنجاب خواجہ سلمان رفیق نے کہا ہے کہ پنجاب کے ریسکیوئرز پوری دنیا میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بین الاقوامی یوم فائرفائٹرز کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کا مقصد جانوں کا تحفظ کرنے والے فائرفائٹرز کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔

تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک اور قومی ترانہ سے کیا گیا۔ریسکیو شہدا کیلئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور دعا مغفرت کی گئی۔2024 کے بیسٹ فائر فائٹرز کو دو اضافی تنخواہیں اور یادگاری شیلڈز تقسیم کی گئیں۔سیکرٹری محکمہ ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیا۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق نے کہاکہ ہمارے ریسکیوئرز عوام کی جان و مال کے تحفظ کی خاطر لازوال خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

عوام کی جان و مال کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے ریسکیوئرز کی لازوال قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ پنجاب کے ریسکیوئرز پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کر رہے ہیں۔ کئی ریسکیو آپریشنز کا حصہ رہ کر ریسکیوئرز کی خدمات کو موقع پر سراہا ہے۔ 2010 کے سیلاب میں ریسکیوئرز نے مشکل میں پھنسے ہزاروں افراد کی مدد کی۔

انہوں نے کہاکہ ایئر ایمبولینس سروس وزیر اعلی کا ویژن تھا۔ موٹر وے پر ایمرجنسی سروسز کامیابی سے جاری ہیں انہوں نے اس موقع پرڈاکٹر رضوان نصیر کی خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب نے حال ہی میں 300 نئی ایمبولینسز خریدنے کی منظوری دی ہے۔فائر ریسکیو سروس نے 260,830 آگ لگنے کے واقعات میں عوام کو 716 ارب کے نقصانات سے بچایا ہے۔

ریسکیو 1122 کے 24 شہدا قوم کے عظیم ہیرو ہیں۔ پنجاب کمیونٹی سیفٹی بلڈنگز ریگولیشنز 2022 پر 100 فیصد عملدرآمد ضروری ہے۔سیکرٹری محکمہ ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ریسکیوئرز اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دوسروں کی زندگیاں بچاتے ہیں۔ بلند و بالا عمارات میں فائر ہائیڈرنٹس، الارم سسٹمز، ایگزٹ اور سیڑھیاں لازمی لگائیں۔

فائرفائٹرز جلتی عمارتوں میں جا کر زندگیاں بچانے والے ہمارے ہیروز ہیں۔ پاکستان ساوتھ ایشیا کی پہلی ٹیم ہے جو یونائٹڈ نیشنز انسراگ سے سرٹیفائیڈ ہے،بازاروں اور سڑکوں سے تجاوزات کے خاتمے سے ریسکیو کا ریسپانس بہتر ہوا ہے۔ سڑکوں سے تجاوزات کے خاتمے سے ریسپانس مزید بہتر ہوا ہے۔پاکستان میں فائر سروس میں حنظلہ ملک گلاسکو کے میئر کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

حنظلہ ملک ہمارے درمیان موجود نہیں، ہم گلاسکو فائر سروس اور حنظلہ ملک کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔پنجاب ایمرجنسی سروس نے 17.

1 ملین سے زائد افراد کو ریسکیو سروسز فراہم کیں ہیں ۔پنجاب ایمرجنسی سروس اب تک 4.4 ملین روڈ ٹریفک حادثات پر ریسپانس کر چکی ہے، ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہاکہ واٹر ریسکیو سروس نے 18,612 ڈوبنے کی ایمرجنسیز اور 3 لاکھ 28 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین کو ریسکیو کیا۔

فائرفائٹرز قوم کے اصل ہیرو ہیں، ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی-فائرفائٹرز کو بین الاقوامی تربیت گلاسگو سے فراہم کی گئی۔تقریب میں حنظلہ ملک اور شہید ریسکیور کے لیے خصوصی دعا کی گئی ۔بین الاقوامی یوم فائرفائٹرز کی تقریب میں ریسکیو افسران، کیڈٹس اور بہترین ریسکیورز نے شرکت کی ۔محمد ثقلین اعظم کو بہترین فائر ریسکیور اور منیب اظہر کو بہترین لیڈ فائر ریسکیور قرار دیا گیا۔ڈویژنل سطح پر بہترین فائر اور لیڈ فائر ریسکیوئرز کو اسناد و نقد انعامات دیئے گئے۔

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایمرجنسی سروسز ایمرجنسی سروس فائر ریسکیو رضوان نصیر حنظلہ ملک کی خدمات انہوں نے رہے ہیں کی گئی

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • الیکشن مہم‘ سلمان اکرم راجہ کو دیامر سے واپس بھیج دیا گیا
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت