ٹرمپ نے چین کی کم مالیت والی ’بے وقعت‘ درآمدی اشیا پر بھی ٹیکس عائد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
ڈونلڈ ٹرمپ نے 800 ڈالرز سے کم مالیت کی چین کی درآمدی اشیا پر دی جانے والی ’ڈی منیمس‘ ٹیرف چھوٹ کو ختم کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف چھوٹ ختم کرنے سے اب 800 ڈالر سے کم مالیت کی اشیاء پر بھی 120 فیصد ٹیکس لگے گا۔
چین کی کم مالیت کی اشیا پر ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے سے کم لاگت والی چینی مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھ جائیں گی۔
یاد رہے کہ امریکا کی کم لاگت والی چینی مصنوعات پر اس ٹیرف چھوٹ نے Shein اور Temu جیسی کمپنیوں کو عروج مہیا کیا تھا۔
اس ٹیکس استثنیٰ کے باعث ہی لاکھوں امریکی صارفین کو چین کی سستی فاسٹ فیشن اور گھریلو اشیاء مل جایا کرتی تھیں۔
امریکا نے اس ٹیکس کا نام ہی ڈی مینس یعنی کم وقعت والی اشیا رکھا تھا۔
’ڈی منیمس‘ ایک تجارتی پالیسی ہے جو 1930 کی دہائی میں متعارف ہوئی تھی۔ اس کے تحت امریکا واپس آنے والے مسافروں کو اجازت تھی کہ وہ 5 ڈالر تک کی اشیاء بغیر کسٹم ڈیکلریشن کے لا سکتے تھے۔
بعد ازاں 2016 سے یہ حد 800 ڈالر (تقریباً 600 برطانوی پاؤنڈ) ہوگئی تھی۔ اگرچہ ’ڈی منیمس‘ کا مطلب ہے ’بے وقعت‘، لیکن اس پالیسی کے تحت بے پناہ مقدار میں اشیاء امریکہ میں داخل ہوتی رہی ہیں۔
مالی سال 2024 میں 1.
تاہم اب امریکی صدر کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکس ہمارے ملک کے خلاف ایک بہت بڑا فراڈ تھا۔ ہم نے اسے ختم کر دیا ہے۔
جس کے بعد اب 800 ڈالر سے کم مالیت کے پیکجز پر 120 فیصد ٹیکس یا 100 ڈالر فلیٹ فیس لاگو ہوگی جو جون سے بڑھا کر 200 ڈالر کر دی جائے گی۔
یہ سب 145 فیصد ٹیرف کے علاوہ ہے جو پہلے ہی تمام چینی درآمدات پر لاگو ہے۔
وائٹ ہاؤس کا الزام ہے کہ چین کے فروخت کنندگان اس استثنیٰ کا فائدہ اٹھانے کے لیے "فریب دہ شپنگ طریقے" استعمال کرتے رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔