22 سال کی طویل سروس کے بعد نامور ویڈیو میٹنگ پلیٹ فارم سکائپ کو آج سے بند کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
مائیکرو سافٹ کمپنی نے نامور ویڈیو میٹنگ پلیٹ فارم اسکائپ کو 22 سال کی طویل سروس کے بعد آج (پیر )سے بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ مائیکروسافٹ کی طرف سے بنائے گئے ایک دوسرے ویڈیو میٹنگ پلیٹ فارم ‘میٹنگ’ کی مقبولیت کے بعد سامنے آیا ہے جس پر کمپنی اب اپنی تمام تر توجہ مرکوز کرنا چاہتی ہے۔
مائیکروسافٹ کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق میٹنگ ٹیم میں بھی ان خصوصیات کو جاری رکھا گیا ہے جو اسکائپ میں موجود تھیں۔مائیکرو سافٹ میٹنگ کے ذریعے انفرادی اورگروپ ویڈیو کالز، مسیجنگ اور فائل شیئرنگ جیسی خدمات سے مفت فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔
مائیکرو سافٹ کے مطابق گزشتہ 2سالوں میں میٹنگ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد میں 4گنا اضافہ ہوا ہے۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسکائپ کا آغاز اگست 2003 میں ہوا تھا جب کہ اب بائیس سال کی مدت کے بعد 5 مئی 2025 کو یہ مکمل طور پر بند ہورہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔