پاک بحریہ کا دشمن کی نقل و حرکت پر بھرپور ردعمل، بھارتی P-8I طیارے کی مشتبہ پرواز کا بروقت سراغ
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پاک بحریہ نے ایک بار پھر دشمن کی نقل و حرکت پر اپنی مکمل نظر رکھنے کی صلاحیت کا عملی مظاہرہ کر دیا۔ 4 اور 5 مئی کی درمیانی شب پاکستانی بحری حدود میں بھارتی جاسوس طیارے P-8I کی مشتبہ پرواز کا سراغ لگایا گیا، جس پر پاک بحریہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے طیارے کی مسلسل نگرانی کی۔
ترجمان پاک بحریہ کے مطابق دشمن کی کسی بھی ممکنہ جارحیت کا بروقت اور مؤثر جواب دینے کے لیے نیول فورسز مکمل طور پر چوکس اور ہمہ وقت تیار ہیں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں کی حفاظت کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس اور پیشہ ورانہ مہارت سے آراستہ ہے، اور کسی بھی خطرے کو فوری طور پر ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نہ صرف زمینی اور فضائی سرحدوں بلکہ سمندری حدود کی نگرانی میں بھی مکمل طور پر مستعد ہے، اور کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاک بحریہ
پڑھیں:
بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس(Bluetooth) کا نام “بم” ظاہر ہونے کے باعث امریکی ایئر لائن کی بین الاقوامی پرواز کو دورانِ سفر واپس موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرانا پڑی۔
ایئر لائن ذرائع کے مطابق یونائیٹڈ ایئر لائنز کی پرواز یو اے 236 نے 30 مئی کی شام نیوارک لبرٹی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے اسپین کے جزیرے پالما ڈی میلورکا کے لیے روانگی اختیار کی تھی۔ پرواز معمول کے مطابق اپنے سفر پر گامزن تھی اور تقریباً دو گھنٹے بعد بحر اوقیانوس کے اوپر پرواز کر رہی تھی۔
اسی دوران ایک مسافر کی بلوٹوتھ ڈیوائس کا نام “بم” کے طور پر ظاہر ہوا، جس کے بعد کیبن میں موجود بعض مسافروں اور عملے میں تشویش پھیل گئی۔ واقعے کی اطلاع فوری طور پر پائلٹ کو دی گئی جس نے حفاظتی ضوابط اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے تحت صورتحال کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پرواز کو واپس موڑنے کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سیکیورٹی خطرے کے پیش نظر طیارے نے نیوارک واپس جانے کا رخ کیا اور تقریباً پونے چار گھنٹے بعد ہنگامی بنیادوں پر بحفاظت لینڈنگ کی۔
مزیدپڑھیں:دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
لینڈنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سیکیورٹی حکام نے طیارے کا تفصیلی معائنہ کیا جبکہ مشتبہ ڈیوائس اور اس کے مالک کے بارے میں تحقیقات بھی کی گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا، تاہم حکام نے واقعے کو فضائی سیکیورٹی کے حوالے سے انتہائی سنجیدگی سے لیا۔
ہوائی سفر کے دوران بم یا دیگر خطرناک الفاظ کا استعمال، خواہ مذاق یا غیر سنجیدگی کے طور پر ہی کیوں نہ کیا جائے، سخت سیکیورٹی ردعمل کا سبب بن سکتا ہے اور اس کے نتیجے میں پروازوں میں تاخیر، ہنگامی لینڈنگ اور قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔