مانیٹری پالیسی پر معاشی تجزیہ نگاروں کو بریفنگ میں مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں 9 ماہ میں 1 اعشاریہ 9 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائم۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ ورکرز ترسیلات رواں مالی سال 38 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ مانیٹری پالیسی پر معاشی تجزیہ نگاروں کو بریفنگ میں مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس میں 9 ماہ میں 1 اعشاریہ 9 ارب ڈالر کا سرپلس ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ درآمدات کا بڑھنا معاشی بحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی نے درآمدی بل کو کنٹرول میں رکھا ہے، وکرز ترسیلات رواں مالی سال 38 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ایس بی پی نے مزید بتایا کہ زرمبادلہ کے ذخائر جون 2025ء تک 14 ارب ڈالر تک بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ پاکستان کا آئی ایم ایف پروگرام ٹریک پر ہے۔

اسٹیٹ بینک نے یہ بھی بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ دوبارہ کسی مذاکرے کی ضرورت نہیں، مانیٹری پالیسی موقف مناسب حد تک مثبت ہے مقصد مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد بینڈ میں رکھنا ہے۔ ایس بی پی نے معاشی تجزیہ کاروں کو بتایا کہ حکومتی قرض مالی یکجہتی، سود ادائیگی اور سبسڈیز میں کمی سے جی ڈی پی کا 67 فیصد ہوا ہے، موسمی حالات، پانی کی دستیابی، اور ان پٹ قیمتیں زرعی شعبے کو درپیش خطرات ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ارب ڈالر تک اسٹیٹ بینک

پڑھیں:

مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر

اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) اسلام آباد نے مالی سال 26-2025 کے اختتام کے سلسلے میں ادائیگیوں، بلوں اور کلیمز کی وصولی کے لیے اہم ڈیڈ لائنز مقرر کردی ہیں۔

اے جی پی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ڈرائنگ اینڈ ڈسبرسنگ آفیسرز (ڈی ڈی اوز) کو ہدایت کی گئی ہے کہ حالیہ خریداریوں اور حاصل کی گئی خدمات کے تمام کلیمز 12 جون 2026 تک لازمی طور پر جمع کرائے جائیں۔

نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ 12 جون 2026 تک جاری کیے گئے ٹوکنز کے تحت تمام غیر منظور شدہ بلوں اور دعوؤں کو دوبارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 15 جون 2026 مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح اے جی پی آر اسلام آباد اور اس کے ماتحت دفاتر کے زیر انتظام اسائنمنٹ اکاؤنٹس کے لیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون 2026 ہوگی۔

اے جی پی آر نے واضح کیا ہے کہ 12 جون 2026 کے بعد اعزازیہ (ہونوریرئم) سے متعلق کوئی کلیم وصول نہیں کیا جائے گا۔

مزید برآں آف سائیکل ادائیگیوں کے حوالے سے کمپیوٹرائزڈ تبدیل شدہ اسٹیٹمنٹس صرف 11 جون 2026 تک وصول کی جائیں گی، جبکہ ان پر کارروائی عارضی طور پر 16 جون 2026 تک مکمل کر لی جائے گی۔

نوٹیفکیشن میں تمام ڈی ڈی اوز اور متعلقہ دفاتر کو تاکید کی گئی ہے کہ ادائیگیوں اور مالی معاملات میں کسی قسم کی تاخیر سے بچنے کے لیے تمام کیسز مقررہ مدت کے اندر جمع کرائے جائیں۔

اے جی پی آر نے یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہوں کے چیکس مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد (اسٹیل) تصور ہوں گے اور 30 جون 2026 کے بعد ان کے متبادل چیکس جاری نہیں کیے جائیں گے۔

ادارے نے تمام متعلقہ سرکاری دفاتر اور مالیاتی حکام پر زور دیا ہے کہ بلوں، ادائیگیوں اور کلیمز سے متعلق تمام مقررہ ڈیڈ لائنز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مالی سال 26-2025 کے حسابات بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews آخری تاریخ مقرر کلیمز مالی سال کا اختتام وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر