بھارتی رافیل کی رینج 150 جبکہ پاکستانی جے10 سی کی 200 کلومیٹر ہے، ایئر کموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
ایئر کموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی کا کہنا ہے کہ فضائی محاذ پر پاکستان کو بھارت پر برتری حاصل ہے، بھارتی میزائل رافیل کی رینج 150 کلومیٹر ہے جبکہ پاکستانی جہاز جے 10 سی کے میزائل بی ایل 15 کی رینج 200 کلومیٹر ہے اس طرح ہمیں میزائل میں بھی بھارت پر برتری حاصل ہے۔
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے ایئر کموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی نے کہا کہ اگر بھارت پاکستان پر حملہ کرتا ہے تو یہ تعین کرنا قبل از وقت ہوگا کہ کس ملک کا زیادہ نقصان ہوگا، اگر بھارت حملہ کر بھی دے تو پاکستان کے جواب میں اتنی شدت ہو سکتی ہے کہ اس کا نقصان بھارت کو کئی گنا زیادہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پاکستان فضائیہ ہر قسم کے جوابی حملے کے لیے تیار ہے اور ہمارے ٹیکنالوجی ایسی ہے کہ ہم بھارت کی جانب سے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جے ایف 17 تھنڈر کو بھی اپڈیٹ کیا گیا ہے، اب ہمارا ایک جہاز ایک میزائل نہیں بلکہ 4 میزائل کے ہمراہ اڑتا ہے۔ سائبر وار فورس میں بھی پاکستان نے بہت ترقی کی ہے، اس کے علاؤہ ڈرون یا وہ جہاز جس میں پائلٹ نہیں ہوتا اس میں بھی پاکستان نے بہت ترقی کر لی ہے۔
ایئر کموڈور ریٹائرڈ خالد چشتی نے کہا کہ بھارت کا جتنا دفاعی بجٹ ہے پاکستان کا کُل بجٹ بھی اس سے کم ہے لیکن جو جنگ ہوتی ہے یہ وسائل کے زور پر نہیں بلکہ ایمانی جذبے سے لڑی جاتی ہے، ہم لوگوں نے کبھی بھی کوئی جنگ اس لیے نہیں لڑی کہ ہم زیادہ طاقتور ہیں یا ہم بہت بڑے ہیں، بلکہ ہمارا ایمانی جذبہ ہے، ہم اس جذبے کے تحت لڑتے ہیں کہ ہم نے اپنی قوم کو فتح دلانی ہے، اس کے علاوہ ہماری ٹریننگ کا معیار بہت بہتر ہے یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا سے لوگ فضائی ٹریننگ کے لیے پاکستان آتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔