وزیراعظم شہباز شریف کا قوم سے خطاب کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔07 مئی 2025)وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب کا فیصلہ کرلیا،وزیراعظم شہباز شریف پاک بھارت کشیدگی اور خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے قوم کو اعتماد میں لیں گے،وزیراعظم شہباز شریف پارلیمنٹ کے اجلاس سے بھی خطاب کرینگے،وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ختم ہوگیا،وزیراعظم کے زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف ،وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ،وفاقی وزیر احسن اقبال اور مصدق ملک بھی شریک ہوئے۔
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارتی جارحیت کے خلاف حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں بھارتی حملوں اور پاکستانی جوابی کارروائی پر عسکری حکام نے بریفنگ دی۔(جاری ہے)
قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس دو گھنٹے جاری رہا اور اس میں اہم فیصلے کئے گئے۔سلامتی کمیٹی کی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے حملوں کا فوری جواب دیتے ہوئے بھارتی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جوابی کارروائی میں بھارت کے 5 طیارے گرائے اور بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو تباہ کر دیا۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساری قوم مسلح افواج کے ساتھ ہے۔ پاکستان کی خود مختاری سالمیت اور وقار پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔قبل ازیں بھی وزیر اعظم شہباز شریف کاکہنا تھا کہ مکار دشمن نے پاکستان کے 5 مقامات پر بزدلانہ حملہ کیا، قوم اور افواج پاکستان دشمن سے نبٹنا بخوبی جانتے ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارتی حملے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ مکار دشمن نے پاکستان کے 5 مقامات پر بزدلانہ حملہ کیا ہے۔پاکستان بھارت کی مسلط کردہ اس جنگی عمل کا بھرپور جواب دینے کا پورا حق رکھتا ہے اور بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ ہے اور پوری پاکستانی قوم کا مورال اور جذبہ بلند ہے۔ان کایہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی قوم اور افواج پاکستان دشمن سے نبٹنا بخوبی جانتے ہیں۔ دشمن کو اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیراعظم شہباز شریف قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں کے اجلاس
پڑھیں:
5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
پانچ جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا۔
بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے منگل کی رات مذاکرات ہوئے مگر پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اورحکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔
پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے لیکن پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالف ہے۔