سپریم کورٹ کا فیصلہ: سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوسکے گا
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
سپریم کورٹ کا فیصلہ: سویلینز کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہوسکے گا WhatsAppFacebookTwitter 0 7 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سویلین کے فوجی ٹرائل کے خلاف انٹراکورٹ اپیلیں منظور کرلیں۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی ائینی بینچ نے مختصر فیصلہ سنا دیا۔
انٹرا کورٹ اپیلیں 2-5 کی اکثریت سے منظور کی گئی ہیں۔
عدالتِ عظمیٰ نے پانچ دو کی اکثریت سے فیصلہ سناتے ہوئے سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کی اجازت دے دی۔
عدالت نے آرمی ایکٹ کی وہ شقیں بھی بحال کر دیں جنہیں پہلے کالعدم قرار دیا گیا تھا، جبکہ فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دینے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔
اکثریتی فیصلے میں جسٹس امین الدین خان، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی شامل ہیں، جب کہ جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان نے فیصلے سے اختلاف کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان بھارت کشیدگی: امن کے قیام کیلئے برطانیہ، روس اور جاپان میدان میں آگئے پاکستان بھارت کشیدگی: امن کے قیام کیلئے برطانیہ، روس اور جاپان میدان میں آگئے قومی سلامتی کمیٹی نے پاک فوج کو بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اختیار دیدیا فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آج سنایا جائے گا بھارتی طیاروں کی تباہی کی خبر نشر ہوتے ہی غائب ،’دی ہند‘ نے دباؤ میں آکر ٹویٹ بھی ڈیلیٹ کردی بھارتی طیارے گرائے جانے کے بعد جے 10 سی طیارے بنانے والی چینی کمپنی کے شیئرز میں نمایاں اضافہ پاک فضائیہ کی کارروائی میں 3 جدید رافیل طیارے تباہ، فرانسیسی کمپنی کے شیئرز گرگئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فوجی عدالتوں میں سپریم کورٹ کا فیصلہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔