انڈیا اور پاکستان کشیدگی ایشیائی ایئرلائنز کا یورپ کی پروازوں کے راستے تبدیل یا منسوخ کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
لندن(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 07 مئی ۔2025 )انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد کئی ایشیائی ایئرلائنز نے بدھ کو یورپ جانے اور آنے والی پروازوں کے راستے تبدیل یا منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے پاکستان نے موجودہ صورت حال میں اسلام آباد انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو پروازوں کے لیے بند کرتے ہوئے تمام فلائٹس کو کراچی ایئرپورٹ کی طرف موڑ دیا ہے جبکہ پاکستان نے اپنی ائیر سپیس بھی ابتدائی طور پر 48 گھنٹوں کے لیے بند کرتے ہوئے مسافروں کو واپس گھر جانے کی ہدایت کی ہے.
(جاری ہے)
پروازوں کی آمد ورفت پر نظر رکھنے والے ادارے فلائٹ ریڈار24 نے اس حوالے سے پاکستانی فضائی حدود کی عکاسی کرنے والی ایک تصویر بھی شائع کیے صورت حال کے پیش نظر تائیوان کی ایوا ایئر نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باعث یورپ جانے اور آنے والی پروازوں کے روٹ کو ایڈجسٹ کیا جائے گا تاکہ متاثرہ فضائی حدود سے بچا جا سکے. برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق کمپنی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک پرواز جو ویانا سے روانہ ہوئی تھی اسے واپس وہیں بھیج دیا جائے گا جبکہ تائپے سے میلان جانے والی پرواز کو ایندھن بھرنے کے لیے ویانا کی جانب موڑ دیا جائے گا جس کے بعد یہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگی. کوریئن ایئر نے کہا کہ اس نے اپنے سیول انچیون سے دبئی پروازوں کے راستے کو تبدیل کر دیے ہیں اور اب یہ راستہ میانمار، بنگلہ دیش اور انڈیا کے اوپر سے گزرے گا جو پہلے پاکستانی فضائی حدود سے گزرتا تھا تھائی ایئرویز نے اعلان کیا کہ یورپ اور جنوبی ایشیا کے مقامات کی پروازوں کے راستے بدھ کی صبح سے تبدیل کیے گے ہیں اور بعض پروازوں میں تاخیر کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے. تائیوان کی چائنا ایئرلائنز نے کہا کہ اس نے ہنگامی منصوبہ بندی کو فعال کر دیا ہے اور مسافروں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کئی اقدامات اٹھائے ہیں تاہم ان اقدامات کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں تائیوان کے مرکزی بین الاقوامی ہوائی اڈے تاﺅیوان کے ویب سائٹ کے مطابق بدھ کو لندن جانے والی چائنا ایئرلائنز کی نان سٹاپ پرواز منسوخ کر دی گئی ہے. روس کے یوکرین پر حملے سے پہلے تائیوان سے یورپ جانے والی کئی پروازیں روس کے اوپر سے گزرتی تھیں لیکن تائیوانی ایئرلائنز پر اب پابندی ہے کیونکہ تائیوان نے ماسکو کے خلاف مغربی پابندیوں میں شرکت کی ہے اس کے بعد سے یہ پروازیں انڈیا، پاکستان اور وسطی ایشیا کے اوپر سے گزرتی ہیں دوسری جانب قطر ایئر ویز نے بھی” ایکس“ پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کی وجہ سے پروازیں عارضی طور پر وہاں سے نہیں گزریں گی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پروازوں کے راستے کے لیے
پڑھیں:
ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔
بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔
مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔