’پاکستان نے جارحیت میں کبھی پہل نہیں کی لیکن اپنے دفاع کیلئے جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے‘
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
سٹی 42 : وزیراطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان نے جارحیت میں کبھی پہل نہیں کی لیکن اپنے دفاع کیلئے جوابی کارروائی کا حق رکھتا ہے.
عطا تارڑ نے عالمی نشریاتی اداروں سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پہلگام ڈرامے کے بعد بھارت کی جانب سے حملے کا خدشہ تھا، بھارت نے پاکستان کے 5 مقامات پر حملہ کیا، بھارتی حملوں میں خواتین اور بچے جاں بحق ہوئے، نقصان کاجائزہ لیا جا رہا ہے تاہم بھارت کی جانب سے شہری آبادی کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک ہے۔
میچ کے دوران بولر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا
عطااللہ تارڑ نے بتایا کہ بھارت کے پاس پہلگام واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی شواہد نہیں، پہلگام کا علاقہ لائن آف کنٹرول سے 200 کلو میٹر دور ہے، غیر ملکی اور مقامی صحافیوں کو لائن آف کنٹرول کا دورہ کرایا، ان مقامات کے بارے میں بھارت کا الزام تھاکہ وہاں دہشت گردوں کے کیمپ ہیں، پہلگام واقعہ بھارتی سکیورٹی فورسز کی ناکامی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ ہے، ہم اپنے مغربی علاقوں اور سرحدوں پر دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے 90 ہزار جانیں قربان کیں، جعفر ایکسپریس واقعہ ہوا تو بھارت نے اس کی مذمت تک نہیں کی، بھارت خود دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے، بھارت نے امریکا، کینیڈا اور آسٹریلیا میں سکھوں کا قتل عام کیا۔
سندرفائرنگ؛ 2 افراد زخمی
وزیراطلاعات نے کہا کہ بھارت کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں، کلبھوشن یادیو بھارت کا نیول آفیسر ہے جو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھا،کلبھوشن پاکستان کے پاس بھارت کے خلاف ایک ٹھوس ثبوت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے سفارتی محاذ پر کئی ممالک کے سفراء سے ملاقات کی، پاکستان نے پہلگام واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی ہے، قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
تیل کی قیمتوں میں زبردست واپسی
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک