پروفیسرخورشید احمد ..اہل کشمیر کے پشتیبان وامت کے پاسباں
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
(گزشتہ سے پیوستہ)
مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کے لیے عالم اسلام کے ممتاز سکالر اور مدبر جناب علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی قیادت میں بین الاقوامی القدس انسٹیٹیوٹ کے نام سے ایک ادارہ بیروت میں قائم کیا گیا اس کے تاسیسی اجتماع میں بھی پروفیسر صاحب اور جناب قاضی حسین احمد صاحب کے ساتھ ہمیں بھی شرکت اور اس ادارے کے بورڈ اف ٹرسٹیز کے اولین ممبران میں شامل ہونے کا موقع ملا اس ادارے کی وساطت سے جہاں مسئلہ فلسطین اور القدس کے ساتھ وابستگی ہمارے لیے اعزاز تھا وہیں اس کی ہر کانفرنس اور اجلاس میں شرکاء کو مسئلہ کشمیر پر بریف کرنا اور حالات سے اگاہی کرنا یہ ایک ایسا نادر موقع ہمیں فراہم ہوا جو ان عظیم قائدین کا مرہون منت تھا ان اجتماعات میں بھی کسی بھی مسئلے پر پروفیسر صاحب کی رائے کو حتمی سمجھا جاتا تھا اور انہی کی رائے اور مشورے کے مطابق فیصلوں پر اتفاق رائے ہوتا تھا مرحوم پروفیسر صاحب ایک فرد نہیں بلکہ ایک تحریک اور ادارہ تھے علمی فکری تنظیمی ادارتی سطح پر جتنا کام اللہ نے ان سے لیا ہے یہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے اور انہی کا حصہ ہے کہ علمی سطح پر ایک ماہر معیشت کی حیثیت سے ساری دنیا ان کی حیثیت اور خدمات کو تسلیم کرتی ہے کہ اسلامی معیشت کو استوار کرنے میں ان کا بنیادی کردار ہے آج اسلامی بینکنگ سے وابستہ سرمایہ کاری ساڑھے پانچ کھرب ڈالر سے متجاوز ہے عالمی ماہرین انہی کو یہ کریڈٹ دیتے ہیں کہ انہی کی قائم کردہ بنیادوں پر آج اسلامی معیشت کی ایک عظیم الشان عمارت کھڑی ہے دنیا اس پر انہیں خراج تحسین بھی پیش کر رہی ہے اور ان کے کام پر تحقیق بھی کر رہی ہے وہیں سید مودودی کی فکر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اسلامک فاؤنڈیشن یا دیگر بین الاقوامی ادارے ہوں یا اسلامی یونیورسٹیز اسلام اباد ملائشیا نائجیریا یہ سارے ادارے ان کے لیے صدقہ جاریہ ہیں ادارہ معارف اسلامی سید مودودی کی رہنمائی میں قائم ہوا لیکن اس کو منظم کرنے میں علمی فکری محاذ پر اس کو چار چاند لگانے میں پروفیسر صاحب نے کلیدی کردار ادا کیا اسلامی جمعیت طلبہ ہو یا جماعت اسلامی عظیم تحریکوں کو ایک بہترین دستور جس پر یہ تنظیمیں استوار ہیں فراہم کرنے میں انہوں نے بنیادی کردار ادا کیا ان کی رہنمائی میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں قلم کار اور اہل دانش تیار ہوئے جو مختلف محاذوں پر آج اقامت دین اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں تحریک پاکستان میں ایک نوخیز کارکن کی حیثیت حصہ لیا اور تادم واپسی قائد اعظم ؒکے تصور کے مطابق پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی مملکت قائم کرنے کے لیے شب و روز ایک کئے اسلامی تحریک کے پلیٹ فارم سے اور ذاتی حیثیت سے بھی علامہ اقبال کے خواب کی تکمیل تعبیر حاصل کرنے کے لیے زندگی کا ایک ایک لمحہ بروئے کار لایا اس سارے عرصے میں ان کی ہمارے ساتھ بے پناہ مربیانہ شفقت رہی ریاست جموں کشمیر میں اسلامی تحریک کے استحکام اور دعوتی تعلیمی میدانو ں میں تحریک کی وسعت کے حوالے ہماری طرف سے پیش کردہ ہر تجویز کا خیر مقدم کے ساتھ بھرپور معاونت کی مولانا عبدالباری مرحوم ہوں یا کرنل رشید عباسی مرحوم برادر سردار اعجاز افضل ہوں یا ڈاکٹر برادر خالد محمود خان یا ڈاکٹر برادر محمد مشتاق خان ہوں سب ہی کے ساتھ شفقت اور سر پرستی فرماتے رہے آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کو آئنی انتظامی اور مالی لحاظ سے باوقار اور باآختیاردیکھنا چاہتے تھے اس سلسلہ میں پارلیمان اور ہر پلیٹ فارم سے آواز بلند کرتے رہے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ایک موثر بیس کیمپ قائم کرنے پر متوجہ کرتے رہے اور ان کے سٹیٹس کی کسی تبدیلی میں مزاحم رہے چار دہائیوں پر محیط ذمہ داریوں کے دورانیہ میں بائس برس امیر جماعت کی حیثیت ذمہ داریاں نبھانا پڑیں اس سارے عر صے میں ان سے بے پناہ شفقت ملی ان جیسا ہمدرد اور غم خوار شاید ہی کوئی دوسرا فرد پایا ہو جو اپنے ساتھیوں اور کارکنان کے ذاتی مسائل کو ایک والد کی طرح اگاہی بھی رکھتا ہو اور انہیں حل کرنے کے لیے بیتاب بھی ہو ہمارے وہ رہنما اور قائد اور مربی بھی تھے اور ذاتی طور پر ایک شفیق والد کی طرح ان کی شفقت ہمیں حاصل تھی صحت کی خرابی کے باوجود حالات پر نظر رکھتے ہوے رہنماء کرتے تھے راقم تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سر گرمیوں اور پیش رفت سے انہیں اکثر آگاہ کرتا رہتا تھا ہمارے بعض ذمہ داران تو کسی پیغام کی رسد بھی نہی دیتے لیکن پروفیسر فی الفور جواب بھی دیتے اور حوصلہ افزاء بھی کرتے اکثر فون پر بھی رابطہ رکھتے برطانیہ جب بھی جانا ہوا ان کی زیارت اور ملاقات ہمیشہ فکری اور روحانی بالیدگی کا ذریعہ بنی فراخ دلی سے ملاقات کا موقع دیتے رہے ،تعلیمی میدان میں ریڈ فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے جو تجربہ ہم نے کیا اس پر ہمیشہ تحسین کی اور اس کے ذمہ دار برادر محمود احمد سے فراخدلانہ تعاون کرتے رہے ۔
ان کی رحلت امت مسلمہ کے لیے ایک عظیم سانحہ ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ آج پوری دنیا میں انہیں خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور لاکھوں لوگ اس بات پر گواہ اور شاہد ہیں کہ انہوں نے اپنے اللہ سے جو عہد باندھا تھا اس کا حق ادا کیا آج ہم سب پس ماندگان ہیں اور ان کی شفقت سے محروم ہو گئے ہیں لیکن اس موقع پر ان کے قریبی ا عزہ ان کے برادر عزیز جناب ڈاکٹر انیس احمد ان کے صاحبزادوں ان کی بیٹیوں ان کے دیگر عزیزوں خاص طور پر برادر خالد رحمان جنہوں نے ان کی طویل رفاقت اور رہنمائی میں آئی پی ایس جیسے ادارے کو پوری مسلم دنیا میں ایک مثالی ادارہ بنایااور ان کے مشن کی تکمیل کا ذریعہ بنے محترم امیر جماعت حافظ نعیم الرحمن ، سراج الحق ،لیاقت بلوچ اور دیگر قائدین اور ان سے متعلقین جو اپنی اپنی جگہ سبھی پسماندگان ہیں اظہار تعزیت بھی کرتے ہیں اللہ سے دعا بھی کرتے ہیں کہ اللہ ان کی خدمات کو قبول فرماتے ہوئے جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ان کا نعم البدل بھی عطا فرمائے ان کے چھوڑے ہوئے فکری اور علمی کام کے حوالے سے جو خلا پیدا ہوا اللہ ان کے مشن کی تکمیل کرنے والے ایسے اہل دانش اور فکری رہنما دستیاب کرے جو پاکستان اور بین الاقوامی محاذ پر ان کے خلا کو پر کر سکیں۔آمین
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پروفیسر صاحب بین الاقوامی کرنے کے لیے کی حیثیت کے ساتھ ہے اور بھی کر اور ان
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ