UrduPoint:
2026-06-03@07:49:11 GMT

پاکستان کے ممکنہ حملے کے تناظر میں بھارت کی تیاریاں

اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT

پاکستان کے ممکنہ حملے کے تناظر میں بھارت کی تیاریاں

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 08 مئی 2025ء) پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میںبھارت کے میزائل حملوں کے ایک دن بعد بھارت کی سرحدی ریاست راجستھان اور پنجاب کو الرٹ موڈ میں رکھا گیا ہے۔ حکام نے تمام پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

بھارت کے زیر انتظام متنازعہ خطہ جموں و کشمیر میں حالات پہلے سے ہی کشیدہ ہیں، جہاں فی الوقت فورسز کی نقل و حرکت میں زبردست اضافہ دیھکا جا رہا ہے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے کسی بھی قسم کی کشیدگی کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

اس دوران مودی حکومت نے جمعرات کے روز کل جماعتی میٹنگ طلب کی تھی، جس میں امیت شاہ، نرملا سیتارامن، راج ناتھ سنگھ اور ایس جے شنکر سمیت متعدد دیگر وزرا نے شرکت کی اور حزب اختلاف کے رہنماؤں کو بریفنگ دی۔

(جاری ہے)

اس میٹنگ کے دوران پاکستان کے خلاف حملوں پر تفصیلی بات چیت کے ساتھ ہی بھارت کے اگلے اقدامات پر بھی غور و خوض ہوا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان بحران پر ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش

پاکستان کے جوابی حملے کے امکان پر تیاریاں

پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھارت کے میزائل حملوں کے بعد بھارت کے متعدد علاقے ہائی الرٹ پر ہیں۔ بھارتی ریاست راجستھان کی پاکستان کے ساتھ 1,037 کلومیٹر طویل سرحد ہے اور اسے بھی ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

حکام نے سرحد کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے اور بارڈر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو کسی بھی مشتبہ سرگرمی کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

بھارتی فضائیہ فی الوقت ہائی الرٹ پر ہے اور راجستھان کے جودھ پور، کشن گڑھ اور بیکانیر کے ہوائی اڈوں سے پروازوں کی نقل و حرکت نو مئی تک کے لیے معطل کر دی گئی ہے۔ اس دوران بھارت کے جنگی طیارے مغربی سیکٹر میں آسمان پر گشت کر رہے ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق بھارت نے اپنا میزائل دفاعی نظام بھی فعال کر رکھا ہے۔

بھارتی حملوں کے جواب میں پاکستان حملے کرے گا؟

بیکانیر، سری گنگا نگر، جیسلمیر اور باڑمیر جیسے اضلاع میں اسکول بند کر دیے گئے ہیں، جبکہ امتحانات کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔ پولیس اور ریلوے کے عملے کی بھی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔

بھارت نے گزشتہ رات ایک مشق کی تھی، جس میں بجلی چلے جانے پر تاریکی میں عوام کو دفاعی رخ اختیار کرنے جیسے اقدام پر عمل کیا گیا تھا۔

اس دوران خاص طور پر سرحدی دیہات ہائی الرٹ پر ہیں اور ہنگامی ردعمل کے لیے انخلاء کے منصوبے جاری کیے گئے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی پر عالمی رہنماؤں کا ردعمل

اطلاعات ہیں کہ سرحد کے قریب اینٹی ڈرون سسٹم کو بھی فعال کر دیا گیا ہے جبکہ جیسلمیر اور جودھپور میں رات کے وقت بلیک آؤٹ کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ بلیک آؤٹ سے جدید تیز رفتار طیاروں کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جس سے پائلٹوں کے لیے حملہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

بھارت کا کہنا ہے کہ اس نے چھ اور سات مئی کی درمیانی شب کو پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نو مقامات پر "دہشت گردی" سے منسلک مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے 24 میزائل داغے تھے۔

بھارت نے اس آپریشن کا نام "سیندور" دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہ پہلگام حملے کا ردعمل تھا، جس میں 26 سیاح ہلاک ہوئے۔ پاکستان نے بھارت کے ان حملوں میں تیس سے زائد افراد کی ہلاکت اور پچاس سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے اور جوابی حملہ کرنے کی بھی بات کہی ہے۔

بھارتی حملے کا جواب دے دیا، پاکستان کا دعویٰ

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارتی میزائل حملوں کو "جنگی کارروائی" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک کو 'مناسب جواب‘ دینے کا پورا حق ہے۔ تاہم اس سلسلے میں پاکستان کی جانب سے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

وزیر داخلہ امیت شاہ کے احکامات

اس سے قبل بدھ کے روز بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جموں و کشمیر اور لداخ کے لیفٹیننٹ گورنرز، اتر پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، راجستھان، گجرات اور مغربی بنگال کے وزرائے اعلیٰ اور سکم حکومت کے نمائندوں کے ساتھ بات چیت کی اور ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے سکیورٹی کا جائزہ لیا۔

امیت شاہ کا کہنا تھا،"تمام ریاستوں کو موک ڈرل کے لیے جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق اپنی تیاری کرنی چاہیے۔ ہسپتالوں، فائر بریگیڈ وغیرہ جیسی ضروری خدمات کے ہموار آپریشن کے لیے انتظامات کیے جائیں اور ضروری سامان کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔"

پاکستان میں بھارتی افواج کے اہداف کیا تھے؟

وزیر داخلہ کی ہدایات کے مطابق سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمز پر ناپسندیدہ عناصر کے ملک مخالف پروپیگنڈے پر سخت نظر رکھی جانی چاہیے اور ریاستی حکومتوں اور مرکزی ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کے ساتھ فوری کارروائی کی جانی چاہیے۔

حکومت نے بغیر کسی رکاوٹ کے مواصلات کو برقرار رکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کمزور مقامات کی حفاظت کو بھی مزید مضبوط کیا جانا چاہیے۔"

ادارت: جاوید اختر

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اور پاکستان کے کے زیر انتظام ہائی الرٹ پر پاکستان اور بھارت کے امیت شاہ گئے ہیں کا کہنا کے ساتھ کے لیے گیا ہے ہے اور

پڑھیں:

میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب

دنیا کے سب سے مقبول کھیل فٹبال کا سب سے بڑا ایونٹ، فیفا ورلڈ کپ 2026، 12 جون سے امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں شروع ہو رہا ہے۔ اس بار ٹورنامنٹ کئی حوالوں سے تاریخ ساز ثابت ہونے جا رہا ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ 48 قومی ٹیمیں عالمی اعزاز کے حصول کے لیے میدان میں اتریں گی جبکہ مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی اس عظیم مقابلے کا حصہ ہوں گے۔

1248 players. 48 nations. Locked in. ????

The Official Squad Lists for #FIFAWorldCup 2026 are here ⤵️

— FIFA World Cup (@FIFAWorldCup) June 2, 2026

فیفا کی جانب سے تمام 48 ٹیموں کے حتمی اسکواڈز کی منظوری کے بعد یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ورلڈ کپ 2026 کھلاڑیوں، ٹیموں اور میچوں کی تعداد کے اعتبار سے تاریخ کا سب سے بڑا فٹبال ٹورنامنٹ ہوگا۔ ایونٹ میں شریک ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر گروپ میں چار چار ٹیمیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو سابقہ ورلڈ کپ ایڈیشنز کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: امریکا نے ایرانی فٹبال ٹیم کو قیام کی اجازت نہیں دی، ٹیم میکسیکو میں رہے گی

میڈیا رپورٹس کے مطابق 1248 کھلاڑیوں میں سے 357 ایسے ہیں جو پہلے بھی ورلڈ کپ کھیل چکے ہیں، جبکہ 891 کھلاڑی پہلی مرتبہ اس عالمی اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ماہرین کے مطابق نئے اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا یہ امتزاج ٹورنامنٹ کو مزید دلچسپ اور غیر متوقع بنا سکتا ہے۔

World Cup is exactly TWO weeks away. ???? #FIFA pic.twitter.com/NFDxw8uKlO

— World Cup 2026 (@WorldCupMedia) May 28, 2026

بین الاقوامی میڈیا نے ورلڈ کپ 2026 کو ’فٹبال کی تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ جامع عالمی مقابلہ‘ قرار دیا ہے۔ عالمی نشریاتی اداروں کا کہنا ہے کہ ٹیموں کی تعداد میں اضافے سے نہ صرف مقابلہ زیادہ سخت ہوگا بلکہ دنیا کے نئے خطوں اور ابھرتی ہوئی فٹبال قوموں کو بھی عالمی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملے گا۔

اس ورلڈ کپ کی ایک اور نمایاں خصوصیت عالمی فٹبال کے دو عظیم ترین ستاروں، لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو، کی ممکنہ تاریخی شرکت ہے۔ دونوں کھلاڑی اپنے چھٹے ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔ میکسیکو کے تجربہ کار گول کیپر گیلرمو اوچوا بھی چھٹی مرتبہ ورلڈ کپ کھیلنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں، جو عالمی فٹبال میں ایک منفرد ریکارڈ تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلام آباد میں فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تقریبات کا آغاز، سیالکوٹ کی فٹبال نے میلہ لوٹ لیا

ورلڈ کپ 2026 کئی نئی قومی ٹیموں کے لیے بھی یادگار ثابت ہوگا۔ کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار فیفا ورلڈ کپ کے فائنل مرحلے میں پہنچے ہیں۔ ان ٹیموں کی شمولیت کو فٹبال کی عالمی توسیع اور کھیل کے بڑھتے ہوئے دائرہ اثر کا ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔

عمر کے اعتبار سے بھی اس بار ٹورنامنٹ منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ ایونٹ میں شامل سب سے کم عمر کھلاڑی کی عمر صرف 17 برس ہے جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کے ہیں۔ ٹورنامنٹ میں 7 ایسے کھلاڑی شریک ہیں جن کی عمر 40 برس سے زیادہ ہے، جبکہ 22 کھلاڑی 20 سال سے کم عمر ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار نوجوان ٹیلنٹ اور تجربے کے دلچسپ امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔

The 2026 FIFA World Cup ???? ⚽ is making its triumphant return to North America, sparking huge excitement across the continent for the world's biggest football tournament, which kicks off on June 11 in Mexico.

Here's your quick guide ????https://t.co/li1RCedN1h

— TRT World (@trtworld) June 1, 2026

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی نہ صرف شمالی امریکا میں فٹبال کی مقبولیت کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی بلکہ عالمی سطح پر بھی کھیل کی تجارتی اور ثقافتی اہمیت میں اضافہ کرے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ٹورنامنٹ ناظرین، آمدنی اور ڈیجیٹل رسائی کے کئی نئے ریکارڈ قائم کرے گا۔

فٹبال شائقین کی نظریں اب 12 جون پر مرکوز ہیں، جب دنیا بھر کی 48 بہترین ٹیمیں عالمی اعزاز کے لیے اپنی مہم کا آغاز کریں گی اور تاریخ کے سب سے بڑے فیفا ورلڈ کپ کا باقاعدہ افتتاح ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رونالڈو فٹبال ورلڈ کپ 2026 فیفا ورلڈ کپ میسی

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت