پاک فوج کا منہ توڑ جواب: بھارت کے 5 جنگی طیارے اور 12 ڈرونز تباہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
پاک فوج کا منہ توڑ جواب: بھارت کے 5 جنگی طیارے اور 12 ڈرونز تباہ WhatsAppFacebookTwitter 0 8 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) سیکورٹی ذرائع کے مطابق بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان پر ایک بزدلانہ حملہ کیا، جس کا پاکستان نے فوری اور بھرپور جواب دے کر دشمن کو شدید نقصان پہنچایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فضائیہ نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے پانچ جدید جنگی طیارے، کئی ڈرونز اور متعدد پوسٹیں تباہ کر دیں، جس کے نتیجے میں بھارتی افواج شدید گھبراہٹ اور کنفیوژن کا شکار ہو گئیں۔
سیکورٹی حکام کے مطابق پاکستانی جواب کے بعد بھارتی فضائیہ نے دوبارہ ہوائی حملوں سے گریز کرنا شروع کر دیا ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق، بھارت اب اسرائیلی ساختہ ہیراپ ڈرونز کے ذریعے پاکستان میں دوبارہ بزدلانہ کارروائیوں کی کوشش کر رہا ہے۔
تاہم پاک فوج کی مستعدی کے باعث اب تک 12 ہیراپ ڈرونز مار گرائے جا چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے اور عوامی مایوسی کا رخ موڑنے کے لیے اشتعال انگیزی کا سہارا لے رہا ہے۔
پاک افواج کے ترجمان اداروں کا کہنا ہے کہ بھارت کی ہر ننگی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا ہے اور آئندہ بھی دیا جاتا رہے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کے ساتھ مکمل جنگ کا خدشہ ظاہر کردیا وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کے ساتھ مکمل جنگ کا خدشہ ظاہر کردیا مسلح افواج پوری طرح چوکس، بھارت کے 12 ڈرونز کو ناکارہ بنا دیا: ترجمان پاک فوج شہریوں کو نشانہ بنانا قابل مذمت، بھارت ہی جج، جیوری اور جلاد بنا ہوا ہے: بلاول بھٹو بھارت کا گوجرانوالہ میں ڈرون حملہ، ایئر ڈیفنس سسٹم نے بھارتی ڈرون مار گرایا بھارت کی جارحیت پر ترکیہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے: صدر اردوان لاہور کے علاقے والٹن روڈ پر پولیس نے بھارتی ڈرون مار گرایاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ