پاکستان ایئر ڈیفنس سسٹم مضبوط قرار دیا جا رہا ہے جب کہ اس نے بھارت کے زیر استعمال دنیا میں پہلی مرتبہ اسرائیلی ساختہ ڈرون کو مار گرایا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گرائے جانے والا ڈرون اسرائیلی ساختہ Heron MK 2 ہے جو 35 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس ڈرون کو انٹی ائیرکرافٹ گن سے ٹارگٹ نہیں کیا جا سکتا، اس کا انجن برطانوی کمپنی UAV Engines LTD بناتی ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے  6/7 مئی کے بزدلانہ حملے میں  5 جدید طیاروں، ڈرونز، متعدد پوسٹوں کے تباہ  اور فوجی ہلاکتوں ہونے کے بعد، بھارت بوکھلاہٹ میں یہ اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز سے پاکستان پر حملہ کر رہا ہے۔

بیان کے مطابق یہ بزدلانہ حملہ بھارت کی پریشانی اور بوکھلاہٹ کی نشانی ہے، لائن آف کنٹرول پر بھی بھارت  نے بھرپور نقصان اٹھایا اور اٹھا رہا ہے، پاکستان کے مختلف علاقوں سے اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز کا ملبہ اٹھایا جا رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ افواج پاکستان دشمن کو منہ توڑ جواب دے رہی ہیں اور اسکے تمام عزائم کو خاک میں ملا رہی ہیں۔

ہیروپ ڈرون اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز (آئی اے آئی) کے ایم بی ٹی میزائل ڈویژن کا تیار کردہ ہے۔

آئی اے آئی کی ویب سائٹ کے مطابق اس ڈرون کو میدان جنگ پر پرواز کرنے اور آپریٹر کی دی گئی کمانڈ کے مطابق حملہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ہیروپ خاص طور پر دشمن کے فضائی دفاع اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس میں یو اے وی (بغیر پائلٹ طیارہ) اور میزائل کی خصوصیات یکجا رکھی گئی ہیں۔

ڈرون مکمل طور پر اپنے طور پر بھی آپریٹ کر سکتا ہے اور اسے ہیومن ان دی لوپ موڈ میں مینوئل طور پر چلایا جاسکتا ہے، اگر کوئی ہدف اس کا نشانہ نہ بنے تو  یہ ڈرون واپس آ کرخود بیس پر اتر سکتا ہے۔

ہیروپ ڈرونز اپنے فولڈنگ ونگز کی وجہ سے ٹرک یا جہاز پر نصب کنستر سے ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے پرواز کر سکتا  ہے۔

 

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرون کے مطابق رہا ہے

پڑھیں:

موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل

لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا