بھارتی جارحیت کیخلاف پاکستان ایئر ڈیفنس سسٹم کی کامیابی، پہلی مرتبہ اسرائیلی ساختہ ڈرون تباہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
پاکستان ایئر ڈیفنس سسٹم مضبوط قرار دیا جا رہا ہے جب کہ اس نے بھارت کے زیر استعمال دنیا میں پہلی مرتبہ اسرائیلی ساختہ ڈرون کو مار گرایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گرائے جانے والا ڈرون اسرائیلی ساختہ Heron MK 2 ہے جو 35 ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس ڈرون کو انٹی ائیرکرافٹ گن سے ٹارگٹ نہیں کیا جا سکتا، اس کا انجن برطانوی کمپنی UAV Engines LTD بناتی ہیں۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ بھارت کے 6/7 مئی کے بزدلانہ حملے میں 5 جدید طیاروں، ڈرونز، متعدد پوسٹوں کے تباہ اور فوجی ہلاکتوں ہونے کے بعد، بھارت بوکھلاہٹ میں یہ اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز سے پاکستان پر حملہ کر رہا ہے۔
بیان کے مطابق یہ بزدلانہ حملہ بھارت کی پریشانی اور بوکھلاہٹ کی نشانی ہے، لائن آف کنٹرول پر بھی بھارت نے بھرپور نقصان اٹھایا اور اٹھا رہا ہے، پاکستان کے مختلف علاقوں سے اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرونز کا ملبہ اٹھایا جا رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ افواج پاکستان دشمن کو منہ توڑ جواب دے رہی ہیں اور اسکے تمام عزائم کو خاک میں ملا رہی ہیں۔
ہیروپ ڈرون اسرائیل ایرو اسپیس انڈسٹریز (آئی اے آئی) کے ایم بی ٹی میزائل ڈویژن کا تیار کردہ ہے۔
آئی اے آئی کی ویب سائٹ کے مطابق اس ڈرون کو میدان جنگ پر پرواز کرنے اور آپریٹر کی دی گئی کمانڈ کے مطابق حملہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ہیروپ خاص طور پر دشمن کے فضائی دفاع اور دیگر اہم اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس میں یو اے وی (بغیر پائلٹ طیارہ) اور میزائل کی خصوصیات یکجا رکھی گئی ہیں۔
ڈرون مکمل طور پر اپنے طور پر بھی آپریٹ کر سکتا ہے اور اسے ہیومن ان دی لوپ موڈ میں مینوئل طور پر چلایا جاسکتا ہے، اگر کوئی ہدف اس کا نشانہ نہ بنے تو یہ ڈرون واپس آ کرخود بیس پر اتر سکتا ہے۔
ہیروپ ڈرونز اپنے فولڈنگ ونگز کی وجہ سے ٹرک یا جہاز پر نصب کنستر سے ہدف کو نشانہ بنانے کے لیے پرواز کر سکتا ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اسرائیلی ساختہ ہیروپ ڈرون کے مطابق رہا ہے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔