آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں گزشتہ رات بھارتی فائرنگ سے نقصانات کی تفصیلات جاری کردی گئی ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نیلم کے مطابق گزشتہ رات وادی نیلم میں بھارتی فوج کی بلا اشتعال فائرنگ سے 2 افراد شہید 5 زخمی ہوئے ہیں،3 مکانات مکمل تباہ ،19 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وادی نیلم جاری گولہ باری میں ٹھہراؤ کے بعد مرکزی شاہراہ ٹریفک کے لیے بحال

؛بھارتی فائرنگ سے تین دکانیں مکمل تباہ جبکہ 14 دکانوں کو جزوی نقصان پہنچا، شیل لگنے سے ایک ٹرک اور سوزوکی کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

زخمیوں کو علاج معالجے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال آٹھمقام منتقل کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: وادی نیلم: بھارتی فوج کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ جاری، پاک فوج کا بھرپور جواب

ڈپٹی کمشنر نیلم ندیم جنجوعہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر ریسکیو ادارے الرٹ ہیں، کشیدہ صورت حال کے دوران خوراک اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے گی۔

وادی لیپہ اور لمنیاں سے لوگوں کی نقل مکانی

دوسری جانب گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بھارتی افواج کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔

وادی لیپہ اور لمنیاں کے متعدد دیہات کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مقامی آبادی شدید خوف و ہراس کا شکار ہو گئی ہے۔

سیکیورٹی خطرات کے باعث درجنوں خاندانوں نے اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے محفوظ مقامات کی طرف ہجرت شروع کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی: لائن آف کنٹرول پر پاک فوج کے جوان ہر دم تیار

مقامی افراد کے مطابق بھارتی فورسز کی گولہ باری رات گئے شروع ہوئی جو وقفے وقفے سے مسلسل جاری رہی۔

مقامی افراد نے بتایا کہ راکٹ اور مارٹر شیل ان کے گھروں کے آس پاس گرے، جس سے کئی مکانات تباہ اور مویشی ہلاک ہوئے۔

ایک مقامی بزرگ کا کہنا تھا: ’ہمیں اپنی جان بچانے کے لیے اپنا سب کچھ چھوڑ کر جانا پڑا۔‘

انتظامیہ حرکت میں، امدادی سرگرمیاں جاری

ضلعی انتظامیہ نے صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے فوری ہنگامی اقدامات اٹھائے ہیں۔ ریسکیو ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں بھیجا گیا ہے، جبکہ عارضی کیمپ قائم کرکے متاثرین کو خوراک، پانی، طبی امداد اور پناہ دی جارہی ہے۔

ڈپٹی کمشنر مظفرآباد نے بات کرتے ہوئے کہا ’عوام کی سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے۔ تمام متعلقہ ادارے ہم آہنگی سے کام کررہے ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سہولت دی جاسکے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news آزاد کشمیر بھارتی فوج ڈپٹی کمشنر فائرنگ وادی نیلم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی فوج ڈپٹی کمشنر فائرنگ وادی نیلم ڈپٹی کمشنر وادی نیلم کے لیے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا