مصر میں شوہر نے بچوں کے سامنے بیوی کو پانچویں منزل سے پھینک دیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
مصر کے شمالی علاقے القلیویہ کے شہر العبور الجدیدہ میں ایک شخص نے غصے میں آکر بچوں کے سامنے بیوی کو پانچویں منزل سے پھینک دیا جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں:مصری تجویز مسترد: حماس کا جنگ بندی معاہدے کے لیے غیر مسلح ہونے سے انکار
عرب میڈیا کے مطابق اہل محلہ نے واقعے کی اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن کو دی،پولیس جائے وقوعہ سے نعش تحویل میں لے کر ہسپتال منتقل کردی۔
ابتدائی پولیس رپورٹ کے مطابق ملزم کا بیوی سے کسی بات پر جھگڑا ہوا جو اتنا بڑھا کہ اس نے طیش میں آکر بچوں کی موجودگی میں ہی بیوی کو پانچویں منزل سے نیچے پھینک دیا۔
پراسیکیوشن میں ملزم کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا ہے جبکہ نعش کو تدفین کے لیے ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیوی کا قتل مصر مصری پولیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیوی کا قتل مصری پولیس
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔