ماورا حسین کا بھارتی اداکار ہرش وردھن کو کرارا جواب
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
معروف پاکستانی اداکارہ ماورا حسین نے بھارتی اداکار ہرش وردھن کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ جیسے نازک وقت میں فلمی شہرت کی بھوک افسوسناک ہے۔
ماورا حسین نے کئی ڈراموں میں شاندار اداکاری سے پذیرائی حاصل کی ہے، انہوں نے بھارتی اداکار اور فلم صنم تیری قسم کے ساتھی ہرش وردھن کے متنازع بیان پر دوٹوک ردعمل دیا ہے۔
سوشل میڈیا پر 9 ملین سے زائد فالوورز رکھنے والی ماورا نے حب الوطنی پر مبنی اپنی پوسٹس پر بھارتی اداکار کی تلخ تنقید کا بھرپور جواب دیا۔
ہرش وردھن نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران ماورا پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ صنم تیری قسم 2 میں سابقہ کاسٹ کے ساتھ کام نہیں کریں گے اور ماورا کے بیانات پر برہم دکھائی دیے۔
اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ماورا حسین نے ناصرف ہرش کو آئینہ دکھایا بلکہ ایسے وقت میں فلمی سیاست چمکانے پر شرمندگی کا اظہار کیا۔
ماورا نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ایسے سنگین حالات میں بھی کوئی شخص اپنی خبروں میں جگہ بنانے کے لیے میرے نام کا استعمال کر رہا ہے، جب بچے شہید ہو رہے ہوں اور ہمارے ملک میں دھماکوں کی گونج سنائی دے رہی ہو، تب کوئی کیسے ایسی خود غرضی دکھا سکتا ہے؟
انہوں نے مزید لکھا کہ میں نے ہمیشہ اپنے ساتھی فنکاروں کے لیے عزت رکھی، محبت اور شکر گزاری کا مظاہرہ کیا لیکن افسوس، آپ نے ناصرف جنگ جیسے حساس لمحے کو نظر انداز کیا بلکہ ذاتی فائدے کے لیے قوموں کے زخموں پر نمک چھڑکا۔
ماورا نے آخر میں اپنے پیغام میں کہا کہ میری وفاداری اپنی سرزمین کے ساتھ ہے، فلمیں بعد میں آتی ہیں، پہلے وطن اور انسانیت ہے، اللّٰہ ہمارے فوجی جوانوں اور عام شہریوں کی حفاظت فرمائے۔
ان کے اس جرات مندانہ اور مدبرانہ جواب نے سوشل میڈیا پر خوب پذیرائی حاصل کی، اور مداحوں نے ان کے قومی جذبے کو سراہا۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بھارتی اداکار ماورا حسین
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔